تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 557 of 1089

تذکرہ — Page 557

۲۰؍ جنوری ۱۹۰۶ء (الف) ’’ یَـوْمَ۱؎ تَـاْتِی السَّمَآءُ بِدُ خَانٍ مُّبِیْنٍ۔وَ تَـرَی الْاَرْضَ خَامِدَ ۃً مُّصْفَرَّۃً۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۵) (ب) ’’وَ قَالُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا۔قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَ ہٗ عِلْمُ الْکِتَابِ۔‘‘ ( الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲) (ترجمہ) ’’اور کہیں گے کہ یہ خدا کا فرستادہ نہیں۔کہہ میری سچائی پر خدا گواہی دے رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۴) ۲۵ ؍جنوری ۱۹۰۶ء ’’۱۔تَـاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔۲۔یَـوْمَ تَـاْتِی السَّمَآءُ بِدُ۔خَانٍ مُّبِیْنٍ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۲ نمبر۴ مورخہ۲۶؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۴مورخہ۳۱؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۳) ۱ (ترجمہ) اس دن آسمان ایک کھلا کھلا دُھواں لائے گا۔یعنی آسمان ایک دُخانی صورت کا عذاب زمین پر نازل کرے گا اور تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک مردہ سی ہوگئی ہے اور راکھ کی طرح بن گئی ہے اور اس پر بجائے سر سبزی کے زردی چھاگئی ہے۔(بدر مورخہ۲۶؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اورالحکم مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں یہ الہام یوں درج ہے۔وَ تَـرَی الْاَرْضَ یَـوْمَئِذٍ خَامِدَ ۃً مُّصْفَرَّۃً۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) علاوہ دیگر معانی کے ظاہری رنگ میں بھی یہ الہام پورا ہوا چنانچہ بابو نصیر احمد صاحب کمسٹریٹ ایجنٹ توپ خانہ بازار کیمپ انبالہ نے جو اپنی چشم دید شہادت الحکم میں شائع کرائی اس میں لکھتے ہیں کہ ’’۲۲؍فروری ۱۹۰۶ء کو بوقت ڑ۴ بجے شام (چھاؤنی انبالہ میں ) پلیگ کارنٹین کے پاس سے دُھواں نکلنا شروع ہوا اور آسمان کی جانب روانہ ہوا۔اس دُھوئیں میں اِس قدر روشنی تھی جیسے کہ بجلی کی روشنی ہوتی ہے اور ایسی گڑگڑاہٹ تھی کہ جیسے توپیں سر ہوتی ہیں۔یہ دُھواں شمال سے اُٹھ کر جانب ِ جنوب روانہ ہوا۔اس کے راستہ میں ایک پختہ عمارت تھی جہاں چیچک کا ٹیکہ لگایا جاتا تھا اس کی چھت کو صاف اُڑادیا۔بس اسی پر خیر نہیں ہوئی وہاں سے یہ خدا کا زبردست نشان گورنمنٹ بوچری پر جابِراجا۔جو اس جگہ سے قریباً دو ۲ فرلانگ تھی اور اس پختہ عمارت کی چھت کو بالکل اُڑا دیا اور احاطہ کی ایک دیوار کو گرادیا اور دو تین آدمیوں کو خفیف سی چوٹیں بھی آئیں۔یہاں پر چار بیل گاڑی کھڑی تھیں جس میں تین کو اُلٹ دیا اور ایک عظیم الشان کیکر کو جَڑ سے اُکھیڑ کر پھینک دیا اور سات آٹھ کیکروں کے تنے توڑدیئے۔ترازو جو اس جگہ گڑا ہوا تھا اس کا ایک پلڑا قریب ایک فرلانگ باہر کھیت میں گرا۔اس کے بعد پولیس کی چوکی کے برآمدہ کو گرا کر یہ دُھواں غائب ہوگیا۔‘‘ (خط نصیر احمد صاحب محررہ مورخہ ۲۴ ؍ فروری ۱۹۰۶ء۔الحکم مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)