تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 524 of 1089

تذکرہ — Page 524

شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فرمایا۔اس کے معنے ہیں دشمنوں کے مونہہ کالے ہوگئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی عظیم الشان نشان کے ذریعہ سے دشمنوں کو روسیاہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۱ مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲۹؍ اگست۱۹۰۵ء ’’اے عمارت مفت میں تو تھک گئی۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶) ۳۰؍ اگست۱۹۰۵ء (الف) ’’ مولوی عبدالکریم صاحب کی گردن کے نیچے پُشت پر ایک پھوڑا ہے جس کو چیرا دیا گیا ہے۔فرمایا۔مَیں نے ان کے واسطے رات دعا کی تھی۔رؤیامیں دیکھا کہ مولوی نورالدین صاحب ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔فرمایا۔ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے اور میری رائے میں طبیب کا رونا مولوی صاحب کی صحت کی بشارت ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۲ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۱ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱۰) (ب) ’’ایک خواب میں اُن؎۱ کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں … خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت ِعمر ہوتی ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۵۸، ۴۵۹) (ج) ’’رؤیا۔دیکھا کہ میرے ہاتھ میں چابیاں ہیں۔ایک صندوق کھولنے کا ارادہ ہے۔فرمایا۔اس میں اشارہ حل مشکلات کی طرف ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۲ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۱ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱۰) ۳۱؍ اگست۱۹۰۵ء (الف) ’’ایک عورت مرگئی۔اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶) ۱ یعنی مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(شمس)