تذکرہ — Page 502
میں خدا تعالیٰ نے مجھے اسرائیل قرار دیا اور مخلص لوگوں کو میرے بیٹے۔اِس طرح پر وہ بنی اسرائیل ٹھہرے۔اور پھر فرمایا کہ مَیں آخر کو ظاہر کروں گا کہ فرعون یعنی وہ لوگ جو فرعون کی خصلت پر ہیں اور ہامان یعنی وہ لوگ جو ہامان کی خصلت پر ہیں اور ان کے ساتھ کے لوگ جو اُن کا لشکر ہیں۔یہ سب خطا پر تھے اور پھر فرمایا کہ مَیں اپنی تمام فوجوں کے ساتھ یعنی فرشتوں کے ساتھ نشانوں کے دکھلانے کے لئے ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا۔یعنی اُس وقت جب اکثر لوگ باور نہیں کریں گے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں مشغول ہوں گے اور بالکل میرے کام سے بے خبر ہوں گے۔تب مَیں اُس نشان کو ظاہر کردوں گا کہ جس سے زمین کانپ اُٹھے گی۔تب وہ روز دُنیا کے لئے ایک ماتم کا دن ہوگا۔مبارک وہ جوڈریں اور قبل اس کے جو خدا کے غضب کا دن آوے توبہ سے اس کو راضی کرلیں کیونکہ وہ حلیم اور کریم اور غفور اور تَوَّاب ہے جیسا کہ وہ شَدِیْدُ الْعِقَاب بھی ہے۔‘‘ (اشتہار ۱۸ ؍اپریل ۱۹۰۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۵۵ تا ۳۶۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۹؍اپر۱؎یل۱۹۰۵ء ’’خدا نے مجھ پر ظاہر فرمایا ہے کہ آخری حصّہ زندگی کا یہی ہے جو اَب گزر رہا ہے جیسا کہ عربی میں وحیِ الٰہی یہ ہے۔قَـرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَّدَّ رُ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ ذِکْـرًا۔یعنی تیری اجلِ مقدر اَب قریب ہے اور ہم تیری نسبت ایک بات بھی ایسی باقی نہیں چھوڑیں گے جو موجب ِ رسوائی اور طعن و تشنیع ہو۔اسی بناء پر اس نے مجھے توفیق دی کہ پنجم حصّہ براہین ِ احمدیہ شائع کیاجائے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۹۰ حاشیہ) ۱۴؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’رؤیا میں دیکھا کہ مَیں قادیان کے بازار میں ہوں اور ایک گاڑی پر سوار ہوں جیسے کہ ریل گاڑی ہوتی ہے۔آگے ایک مکان نظر آیا۔اس وقت زلزلہ آیا مگر ہم کو کوئی نقصان اس زلزلہ سے نہیں ہوا۔‘‘ (بدر۲؎ جلد ۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۰ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۹۰۵ء ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنّی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور بَد گمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مُردار کی طرف۔۱ (نوٹ از ناشر) یہ تاریخ کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۲ سے لی گئی ہے جہاں صرف الہام درج ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۲ میں یہ رؤیا باختلافِ الفاظ درج ہے۔