تذکرہ — Page 482
(ب) ’’ خدا نے مجھے خبردی کہ ایک زلزلہ کا دھکّا ظاہرہوگا جس سے جانوں اورعمارتوں کا نقصان ہوگا… چنانچہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو وہ زلزلہ آیا۔‘‘ (اشتہار۲۹ ؍اپریل ۱۹۰۶ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۸۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۹۰۴ء ’’۱۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔۲۔عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر۱۸ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۸۔البدر جلد ۳ نمبر۲۰،۲۱مورخہ ۲۴ ؍مئی و یکم جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵) (ترجمہ) ۱۔تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔(دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۸) ۲۔بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں۔(اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۴۱۸) ۱۹۰۴ء رؤیا۔’’عطر کی شیشی ہاتھ میں ہے۔ہاتھوں پر اور پگڑی پر عطر مَل رہے ہیں۔‘‘ ( الحکم جلد ۸ نمبر۱۸؍ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۹۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۰، ۲۱مورخہ ۲۴ ؍مئی و یکم جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵) ۸ ؍جون۱۹۰۴ء ’’(ایک الہام کا خلاصہ) خدا تیرا دوست ہے۔اسی کے صلاح و مشورہ پر چل۔دوبارہ الہام ہوا۔’’عَفَتِ الدِّ یَـارُ مَـحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔اَعْطَیْتُکَ کُلَّ النَّعِیْمِ۔‘‘؎۱ ( الحکم جلد ۸ نمبر۱۹، ۲۰مورخہ ۱۰، ۱۷؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰) ۱۲؍ جون۱۹۰۴ء ’’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّایُضَاعُ۔لَا یَـاْتِیْ عَلَیْکَ یَـوْمُ الْـخُسْـرَانِ۔‘‘؎۲ (الاستفتاء۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲) ۱۲ ؍ جون ۱۹۰۴ء ’’اَعْطَیْتُکُمْ کُلَّ النَّعِیْمِ۔اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ۔‘‘؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸) ۱ (ترجمہ از مرتّب) عارضی رہائش کے بھی مکانات مِٹ جائیں گے اور مستقل رہاش کے بھی۔مَیں تمام اُن لوگوں کی جو اِس گھر میں رہتے ہیں حفاظت کروں گا۔مَیں نے تجھے سارے انعامات عطا کئے ہیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔تجھ پر گھاٹے کا دن نہیں آئے گا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے تم کو ہر قِسم کی نعمتیں دیں۔جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ جو ایمان لائے ان کے لئے بخشش اور باعزت رزق ہے۔