تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 1089

تذکرہ — Page 483

۱۴؍ جون۱۹۰۴ء ’’ مَکَانٌ اَلِیْمٌ۔‘‘؎۱ ’’۱۴؍جون ۱۹۰۴ء کو دیکھا کہ ہم ایک حاکم کی عدالت کے دروازہ کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں اور بعض لوگ اس کی راہ پر بیٹھ گئے ہیں۔اتنے میں وہ حاکم نکلا ہے۔گھوڑے پر سوار ہے اور بہت ناراض ہے۔کہتا ہے یہ لوگ میری راہ پر کیوں بیٹھ گئے۔اتنی قید اور اتنے ضرب بَید لگاؤ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۹) ۱۸؍ جون۱۹۰۴ء ’’۱۔رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔۲۔اِنَّـمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔۳۔کُلُّ بَـرَکَۃٍ فِیْ ھٰذَا۔۴۔کُلُّ اَمْرٍ مُّبَدَّ لٌ۔۵۔سَاَجْعَلُ لَکَ سُھُوْلَۃً فِیْ کُلِّ اَمْرٍ۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۹) ۱۹؍جون۱۹۰۴ء ’’والدہ محمود کی طرف سے۔اُرِیْدُ اَنْ اَتَـخَلَّصَ۔؎۳ منجانب اللہ۔اُرِیْدُ اَنْ اُخَلِّصَ۔‘‘؎۴ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۹) ۲۱؍جون ۱۹۰۴ء روز سہ شنبہ ’’ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ فَاطْلُبْنِیْ تَـجِدْ نِیْ۔‘‘؎۵ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹) ۲۲؍ جون۱۹۰۴ء ’’ ۱۔اَحْسِنْ وِدَادَکَ۔۲۔سَاَجْعَلُ لَکَ سُھُوْلَۃً فِیْ اَمْرِکَ۔۳۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِـمَّا تُـحِبُّوْنَ۔‘‘؎۶ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹) ۱ (ترجمہ از مرتّب) دردناک گھر۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مصیبت آگئی تھی لیکن خیریت سے گزرگئی۔۲۔تیرا معاملہ یوں ہے کہ جب تُو کسی چیز کا ارادہ کرے اور اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے۔۳۔تمام برکت اسی میں ہے۔۴۔ہر بات بدلی ہوئی ہے۔۵۔عنقریب مَیں تیرے لئے ہر اَمرمیں سہولت کردوں گا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں خلاص ہونا چاہتی ہوں۔۴ (ترجمہ از مرتّب) مَیں خلاصی دینا چاہتا ہوں۔۵ (ترجمہ از مرتّب) مَیں رحمٰن خدا ہوں تُو مجھے تلاش کرے گا تو پالے گا۔۶ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اپنی دوستی کو سنوار۔۲۔مَیں عنقریب تیرے معاملے میں سہولت پیدا کردوں گا۔۳۔تم نیکی ہر گز حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں کو خرچ نہ کرو۔