تذکرہ — Page 474
۲؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’ عُلیا بیگم۔پھر دیکھا کہ منشی جلال الدین آگئے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۵) ۶؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’مَیں نے دیکھا کہ ایک عورتوں میں سے عورت ہے۔اس کے بھائی اور ایک بیٹا فوت ہوگیا ہے۔کچھ خدا کی طرف سے تنبیہ ہے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۵) ۱۲؍اپریل ۱۹۰۴ء ’’اے بسا خانہءِ دشمن کہ تو و یراں کردی‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵) ۱۲؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’۱۔صحت اور تندرستی؎۱ ۲۔اَجَرْتُ مِنَ النَّارِ۔؎۲ ۳۔اے بسا خانہءِ دشمن کہ تُو و یراں کردی ؎۳ ۴۔جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تُو ہی تُو ہے۔‘‘؎۴ ( الحکم جلد۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱) ۱۶؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’ فجر کے وقت فرمایا کہ ہم نے ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک سڑک ہے جس پر کوئی کوئی درخت ہے اورایک مقام دارہ ( فقراء کے تکیہ وغیرہ) کی طرح ہے۔مَیں وہاں پہنچا ہوں۔مفتی محمد صادق میرے ساتھ تھے۔دو چار اَور دوست بھی ہمراہ تھے لیکن اُن کے نام اور وہ حصّہ خواب کا بھول گیا ہوں۔آخر سڑک کے کنارہ آیا تو ایک مکان دیکھا جو کہ میرا یہ (سکونتی) مقام معلوم ہوتا ہے لیکن چاروں طرف پھرتا ہوں، اُس کا دروازہ نہیں ملتا اور جہاں دروازہ تھا وہاں ایک پختہ عمارت کی دیوار معلوم ہوتی ہے۔فـجّو (فضل النّساء) سفید کپڑے پہنے بیٹھی ہے اور اُس کے ساتھ فـجّاؔ (فضل) بھی ہے لیکن فجّے کی ایک اُنگلی پر خفیف سا زخم ہے جس سے وہ روتا ہے۔فجّے نے آکر ایک ستون جیسی دیوار کو صرف ہاتھ ہی لگایا ہے کہ وہا ں ایک دروازہ بڑی پھاٹک کی طرح ایسے کھل گیا ہے جیسے ایک پینچ کے دبانے سے بعض کَل دار دروازے کھل جاتے ہیں۔جب اُس دروازہ کے اندر داخل ہوا تو کسی نے کہا کہ یہ دروازہ فضل الرحمٰن نے کھول دیا ہے۔‘‘ (البد۵؎ر جلد ۳ نمبر۱۶، ۱۷ مورخہ ۲۴؍ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶) ۱ الہام نمبر ۱ ’’صحت اور تندرستی‘‘ البدر مورخہ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۴ میں نہیں ہے۔(ناشر) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔مَیں نے آگ سے بچالیا۔۳ (ترجمہ از ناشر ) دشمن کے کتنے ہی گھر ہیں جنہیں تو نے ویران کردیا ہے۔۴ ’’یہ الہامات ۱۲ ؍اپریل کو ۱۰ بجے کے قریب جب آپ دعا کررہے تھے ہوئے طاعون کی کارروائی کے متعلق ہیں۔‘‘ ( الحکم مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱) ۵ (نوٹ از ناشر) کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵ کی عبارت پورے طور پر پڑھی نہیں جاسکی اس وجہ سے البدر کے حوالہ سے اسے متن میں درج کردیا گیا ہے۔