تذکرہ — Page 461
۱۳ ؍اکتوبر۱۹۰۳ء ’’سَـبَّحَکَ اللّٰہُ وَ رَافَاکَ۔خدا ترا از عیوب منزّہ کرد و با تو موافقت کرد۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۸) (ترجمہ) خدا نے ہر ایک عیب سے تجھے پاک کیا اور تجھ سے موافقت کی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹) ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء ۱۔یُسَبِّحُ۱؎ لِلہِ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ۔مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔۲۔وَاِنَّکَ اَنْتَ الْمُجَازُ۔۲؎ ۳۔اِنِّیْ مَلَکْتُ الشَّـرْقَ وَ الْغَـرْبَ۔یہ الہام مذکورہ بالا نواب محمد علی صاحب کے پسر عبد الرحیم کے حق میں ہوا کہ پہلے مایوسی کی حالت ہوئی پھر شفاعت کی۔خدا تعالیٰ نے چند یوم میں شفا بخشی… پھر بعد اس کے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۰۳ء تک آثار صحت ۱ (ترجمہ از ناشر) ۱۔آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔کون ہے جو اس کے اذن کے بغیر اس کے حضور شفاعت کرے۔۲۔اور تجھے شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے۔۳۔مَیں مشرق اور مغرب کا مالک ہوا۔۲ ’’ہمارے مکرم خان صاحب محمد علی خان صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار ہوگیا۔چودہ روز ایک ہی تپ لازمِ حال (رہا) اور اس پر حواس میں فتور اور بیہوشی رہی آخر نوبت احتراق تک پہنچ گئی… حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کو ہر روز دعا کے لئے توجہ دلائی جاتی تھی اور وہ کرتے تھے۔۲۵؍ اکتوبر کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں بڑی بے تابی سے عرض کی گئی کہ عبدالرحیم کی زندگی کے آثار اچھے نظر نہیں آتے۔حضرت رؤف الرحیم تہجد میں اس کے لئے دعا کررہے تھے کہ اتنے میں خدا کی وحی سے آپ پر کھلا کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدّر …فرمایا۔جب خدا تعالیٰ کی یہ قہری وحی نازل ہوئی تو مجھ پر حد سے زیادہ حزن طاری ہوا۔اُس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ یا الٰہی اگر یہ دعا کا موقع نہیں تو مَیں شفاعت کرتا ہوں۔اس کا موقع تو ہے۔اس پر معاً وحی نازل ہوئی۔یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ۔مَنْ ذَ الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت خوف اور ہیبت وارد ہوئی کہ مَیں نے بلا اِذن شفاعت کی ہے ایک دو منٹ کے بعد پھر وحی ہوئی۔اِنَّکَ اَنْتَ الْمُجَازُ یعنی تجھے اجازت ہے۔اس کے بعد حالاً بعد حالٍ عبدالرحیم کی صحت ترقی کرنے لگی اور اَب ہر ایک جو دیکھتا اور پہچانتا تھا اسے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا اور اعتراف کرتا ہے کہ لارَیب مُردہ زندہ ہوا ہے۔‘‘ (مکتوب محررہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب ؓسیالکوٹی مطبوعہ البدر مورخہ ۲۹؍ اکتوبر، ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۲۱)