تذکرہ — Page 459
۷۳۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ۔۷۴۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ ۷۵۔وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ۔۷۶۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاَصُوْمُ۔۷۷۔وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔۷۸۔وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔۷۹۔وَاَجْعَلُ لَکَ اَنْـوَارَ الْقُدُوْمِ۔۸۰۔وَلَنْ اَبْـرَحَ الْاَرْضَ اِلَی الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۔۸۱۔اِنِّیْ اَنَـا الصَّاعِقَۃُ وَاِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ ذُو اللُّطْفِ وَ النَّدٰی۔بقیہ ترجمہ۔۷۳۔خدائے رحیم کی طرف سے سلامتی ہے۔۷۴۔تم پر سلامتی ہے۔تم پاک نفس ہو۔۷۵۔اور اے مجرمو! آج تم الگ ہوجاؤ۔۷۶۔مَیں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں اور افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔۷۷۔اور اُس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے۔۷۸۔اور تجھے وہ نعمت دوں گا جو ہمیشہ رہے گی۔۷۹۔اور اپنی تجلّی کے نور تجھ میں رکھ دوں گا۔۸۰۔اور مَیں اس زمین سے وقت ِ مقدّر تک علیحدہ نہیں ہوں گا۔یعنی میری قہری تجلّی میں فرق نہ آئے گا۔۸۱۔مَیں صاعقہ ہوں اور مَیں رحمٰن ہوں صاحب ِ لُطف اور بخشش۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۴ تا ۹) ۱۹۰۳ء ’’ اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلاوے گا اور حجّت اور بُرہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا ا س مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اَب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے … اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریمؑ کے بیٹے کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰ اب تک آسمان سے نہ اُترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہوجائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بد ظن ہوکر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دُنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک