تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 1089

تذکرہ — Page 458

۵۴۔لَا یَـمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔۵۵۔فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ تُـؤْمِنُوْنَ۔۵۶۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ لَّا یَتِمَّ اَمْرُکَ، وَاللّٰہُ یَـاْبٰی اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ اَمْرَکَ۔۵۷۔وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَکَ حَتّٰی یَـمِیْزَ الْـخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔۵۸۔ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْـحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔وَکَانَ وَعْدُاللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔۵۹۔اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اَتٰی۔۶۰۔وَ رَکَلَ وَ رَکٰی۔۶۱۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا، وَ یَسْطُوْ بِکُلِّ مَنْ سَطَا۔حَلَّ غَضَبُہٗ عَلَی الْاَرْضِ۔۶۲۔ذَالِکَ بِـمَاعَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔۶۳۔اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔۶۴۔اَمْرٌ مِّنَ السَّمَآءِ۔۶۵۔اَمْرٌ مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْـرَمِ۔۶۶۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّـرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔۶۷۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔۶۸۔لَا عَاصِـمَ الْیَوْمَ اِلَّا اللّٰہُ۔۶۹۔اِصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔۷۰۔اِنَّہٗ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ۔۷۱۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا مِنِ اسْتِکْبَارٍ۔۷۲۔وَ اُحَافِظُکَ خَآصَّۃً۔بقیہ ترجمہ۔۵۴۔اس کے حقائق معارف تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو پاک کئے جاتے ہیں۔۵۵۔پس تم اُس کے بعد یعنی اس کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔۵۶۔یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں کہ کچھ ایسی کوشش کریں کہ تیرا اَمر ناتمام رہ جائے لیکن خدا تو یہی چاہتا ہے کہ تیری بات کو کمال تک پہنچاوے۔۵۷۔اور خدا ایسا نہیں ہے کہ قبل اس کے جو پاک اور پلید میں فرق کرکے دکھلاوے۔تجھے چھوڑ دے۔۵۸۔خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو (یعنی اِس عاجز کو )ہدایت اور دین ِ حق دے کر اِس غرض سے بھیجا ہے تا وہ اِس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اور خدا کا وعدہ ایک دن ہونا ہی تھا۔۵۹۔خدا کا وعدہ آگیا اور ایک پَیر اس نے زمین پر مارا اور خلل کی اصلاح کی۔۶۰۔خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا اور اُس شخص پر حملہ کرے گا کہ جو ظلم کی راہ سے تیرے پر حملہ کرے گا۔۶۱۔اُس کا غضب زمین پر اُتر آیا ۶۲۔کیونکہ لوگوں نے معصیت پر کمر باندھی اور وہ حد سے گزر گئے۔۶۳۔بیماریاں مُلک میں پھیلائی جائیں گی اور طرح طرح کے اسباب سے جانیں تلف کی جائیں گی۔۶۴۔یہ امر آسمان پر قرار پاچکا ہے۔۶۵۔یہ اُس خدا کا امر ہے جو غالب اور بزرگ ہے۔۶۶۔جو کچھ قوم پر نازل ہوا خدا اُس کو نہیں بدلائے گا جب تک کہ وہ لوگ اپنے دلوں کی حالتیں نہ بدلالیں۔۶۷۔وہ اُس گاؤں کو جو قادیان ہے کسی قدر ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لے لے گا۔۶۸۔آج خدا کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔۶۹۔ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے کشتی بنا۔۷۰۔وہ قادر خدا تیرے ساتھ اور تیرے لوگوں کے ساتھ ہے۔۷۱۔مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر کے اندر ہے بچاؤں گا۔مگر وہ لوگ جو میرے مقابل پر تکبر سے اپنے تئیں نافرمان اور اُونچا رکھتے ہیں۔یعنی پورے طور پر اطاعت نہیں کرتے۔۷۲۔اور خاص کر میری حفاظت تیرے شاملِ حال رہے گی۔