تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 1089

تذکرہ — Page 443

والد کا زندہ ہونا یا کسی اور مردہ کا زندہ ہونا، کسی مردہ امر کا زندہ ہونا ہے۔مَیں نے اِس سے یہ بھی سمجھا کہ ہمارا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر ہونے کا موجب اور نیز والدین کے رفع درجات کا بھی موجب ہے۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۲۱ مورخہ ۱۲؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶۲۔الحکم جلد ۷نمبر۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵) ۴؍ جون۱۹۰۳ء ’’خدا جانے کس کے حق میں ہے لَا یُوَا فِیْکَ اللّٰہُ ؎۱ یا یہ کہ لَا یُعَافِیْکَ اللّٰہُ۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۰) ۲۰؍ جون۱۹۰۳ء ’’ عمر دراز اِنَّـا اَلَـنَّا لَکَ الْـحَدِیْدَ۔اِنِّیْ تَعَلَّقْتُ بِـاَھْدَابِکُمْ۔رَجُلٌ کَبِیْرٌ۔؎۳ یادداشت۔جب یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ تَعَلَّقْتُ بِاَھْدَابِکُمْ۔رَجُلٌ کَبِیْرٌ اس کے بعد قلات کے بادشاہ معطل کی طرف سے خط آیا کہ مَیں آپ کے دامن سے وابستہ ہوگیا۔اس کے گواہ مفتی محمد صادق، مولوی مبارک علی، سیّد سرور شاہ، مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے، مولوی عبدالکریم صاحب، مولوی حکیم نوردین صاحب، نواب محمد علی خان صاحب، مولوی شیر علی صاحب بی۔اے وغیرہ اصحاب ہیں جو چالیس کے قریب ہوں گے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۹، ۱۰) ۲۱؍ جون۱۹۰۳ء ’’مجھے دو عصا دیئے گئے۔ایک جو میرے پاس تھا، دوسرے وہ جو گم ہوگیا تھا اور گمشدہ عصا کو جو مَیں نے دیکھا تو اس کے منہ پر لکھا ہوا تھا۔دُعَآءُکَ مُسْتَجَابٌ۔‘‘ ؎۴ (کاپی الہامات؎۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۰) ۲۸ ؍جون۱۹۰۳ء الہام۔’’ اٰیَـاتٌ لِّلسَّآ ئِلِیْنَ۔‘‘ ؎۶ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۰) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تیرے پاس نہیں آئے گا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تجھے عافیت نہیں دے گا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کردیا۔مَیں نے آپ کا دامن پکڑ لیا ہے۔ایک بڑا آدمی۔۴ (ترجمہ از مرتّب) تیری دعا مقبول ہے۔۵ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۹ اور الحکم مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ پر یہ الفاظ درج ہیں۔’’۲۱؍ جون کو ایک چھڑی پر یہ لکھا ہوا دکھایا گیا دُعَآءُکَ مُسْتَجَابٌ۔‘‘ ۶ (ترجمہ از مرتّب) سوال کرنے والوں کے لئے نشانات۔