تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 1089

تذکرہ — Page 437

خدا نہیں چاہتا کہ جو سلسلہ اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اس کا کوئی شریک ہو۔یہاں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کاغذ ہمارے پاس آگیا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۱ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۵) ۷؍اپریل۱۹۰۳ء رؤیا۔’’مَیں کسی راستہ پر چلا جاتا ہوں۔گھر کے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو مَیں نے گود میں لیا ہوا ہے۔بعض جگہ نشیب و فراز بھی آجاتا ہے جیسے کہ دیوار کے برابر چڑھنا پڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جاتا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے۔ارادہ ہے کہ ایک مسجد میں جانا ہے۔جاتے جاتے ایک گھر میں جا داخل ہوئے ہیں۔گویا وہ گھر ہی مسجد ِ موعود ہے جس کی طرف ہم جارہے ہیں۔اندر جاکر دیکھا ہے کہ ایک عورت بعمر ۱۸ سال سفید رنگ وہاں بیٹھی ہے۔اس کے کپڑے بھگوے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں۔جب اندر گئے ہیں تو گھر والوں نے کہا ہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۱۵ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۶) ۱۲؍اپریل۱۹۰۳ء ’’ فرمایا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحرِ ذخّار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بَل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جارہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو اُلٹا بہنے لگا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۱۴ مورخہ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۷) ۱۷؍ اپریل۱۹۰۳ء ’’مولوی محمد حسین کی نسبت اِنِّیْ سَاُخْبِرُہٗ فِیْ اٰخِرِ الْوَقْتِ اَنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْـحَقِّ۔‘‘ ؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷) ۲۱ ؍ اپریل۱۹۰۳ء ’’فرمایا۔آج صبح جب مَیں نماز کے بعد ذرا لیٹ گیا تو الہام ہوا مگر افسوس ہے کہ ایک حصّہ اس کا یاد نہیں رہا۔ایک پہلے عربی کا فقرہ تھا اور اس کے بعد اس کا ترجمہ اُردو میں تھا۔وہ اُردو فقرہ یاد ہے۔یہ بات آسمان پر قرار پاچکی ہے، تبدیل ہونے والی نہیں۔اور عربی فقرہ کچھ اس سے مشابہ تھا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) یقیناً مَیں اُسے آخری وقت میں بتادوں گا کہ تُو حق پر نہیں تھا۔(نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۹ اور الحکم مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میں ۱۸؍اپریل ۱۹۰۳ء کے حوالہ سے یوں تحریر ہے ’’فرمایا کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نظر کے آگے سے پھر گئے۔پھر یہ لفظ الہام ہوئے۔سَاُخْبِرُہٗ فِیْ اٰخِرِ الْوَقْتِ اَنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْـحَقِّ۔‘‘