تذکرہ — Page 430
۴؍ فروری ۱۹۰۳ء ’’ ذَالِکَ بِـمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶) (ترجمہ) ’’کیونکہ وہ لوگ حد سے نکل گئے ہیں اور نافرمانی کی راہوں پر قدم رکھا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۹۳) ۸؍ فروری ۱۹۰۳ء ’’۔۱۔اَلْـــحَــرْبُ مُــھَــیَّــجَــــۃٌ۔؎۱ ۲۔پھر یہ زندہ ہوئی ہے مَر مَر کر‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۵) فروری ۱۹۰۳ء ’’ آج آریہ سماج قادیان کی طرف سے میری نظر سے ایک اشتہار گزرا… اس اشتہار میں ہمارے سیّد و مولیٰ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور میری نسبت اور میرے معزز احباب کی نسبت اس قدر سخت الفاظ اور گالیاں استعمال کی ہیں کہ بظاہر یہی دل چاہتا تھا کہ ایسے لوگوں کو مخاطب نہ کیا جاوے مگر خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’اس تحریر کا جواب لکھ اور مَیں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں۔‘‘ تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں مَیں اکیلا نہیں۔سو مَیں اپنے خدا سے قوت پاکر اُٹھا اور اُس کی روح کی تائید سے مَیں نے اس رسالہ؎۲ کو لکھا۔‘‘ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۳۶۳،۳۶۴) ۱۹۰۳ء ’’ ایک دفعہ مَیں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دُور کردی جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔تب میرے دل میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ مسیح موعود کے لئے یہ بھی ایک علامت ہے کیونکہ لکھا ۱ (ترجمہ از ناشر) جنگ بھڑکائی جائے گی۔(نوٹ) ’’البدر میں یہ الہام اِن الفاظ میں موجود ہے۔حَـرْبٌ مُّھَیَّجَۃٌ جوش سے بھری ہوئی لڑائی۔فرمایا کہ اس کا اشارہ یا تو مقدمہ کی شاخوں کی طرف معلوم ہوتا ہے یا آریہ سماج کو جو اشتہار نَو مسلموں نے دیا ہے اُس سے جوش میں آکر وہ لوگ کچھ گندی گالیاںوغیرہ دیویں چنانچہ شام کو ایک اشتہار آریوں کی طرف سے نکل آیا جس میں ایسے ہی گندے الفاظ تھے۔‘‘ (البدر مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵) ۲ یعنی رسالہ ’’ نسیم دعوت ‘‘ (عبد اللطیف بہاولپوری)