تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 1089

تذکرہ — Page 410

۱۵؍ نومبر۱۹۰۲ء (قریباً) ’’۲۹؍نومبر ۱۹۰۲ء روز شنبہ کو ایک خواب بیان کیا جسے دیکھے ہوئے قریب ۲دو ہفتے گزرے تھے۔وہ خواب یہ ہے کہ ایک مقام پر مَیں کھڑا ہوں تو ایک شخص آکر چیل کی طرح جھپٹا مار کر میرے سر سے ٹوپی لے گیا۔پھر دوسری بار حملہ کرکے آیا کہ میرا عمامہ لے جاوے مگر مَیں اپنے دل میں مطمئن ہوں کہ یہ نہیں لے جاسکتا۔اتنے میں ایک نحیف الوجود شخص نے اسے پکڑلیا مگر میرا قلب شہادت دیتا تھا کہ یہ شخص دل کا صاف نہیں ہے۔اتنے میں ایک اَور شخص آگیا جو قادیان کا رہنے والا تھا اُس نے بھی اُسے پکڑلیا۔مَیں جانتا تھا کہ مؤخر الذکر ایک مومن متقی ہے۔پھر اُسے عدالت میں لے گئے تو حاکم نے اُسے جاتے ہی ۴ یا ۶ یا ۹ ماہ کی قید کا حکم دے دیا۔‘‘ ( البدر جلد ۱نمبر ۵،۶ مورخہ ۲۸؍نومبرو ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۷) ۱۹۰۲ء ’’ فرمایا کہ مجھےرؤیاہوا ہے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی سر سے ننگا مَیلے کُچیلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آیا ہے۔اُس سے مجھے سخت بدبُو آتی ہے۔میرے پاس آکر کہتا ہے کہ میرے کان کے نیچے طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔مَیں اُسے کہتا ہوں پیچھے ہٹ جا، پیچھے ہٹ جا۔آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ تفہیم الٰہی کوئی نہیں۔‘‘ ( البدر جلد ۱نمبر ۵،۶ مورخہ ۲۸؍نومبرو ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴) ۱۷؍ نومبر۱۹۰۲ء ’’ فرمایا۔رات مَیں نے خواب میں کچھ بارش ہوتی دیکھی ہے۔یُونہی ترشُّح سا ہے اور قطرات پڑ رہے ہیں مگر بڑے آرام اور سکون سے۔‘‘ (البدر۱؎ جلد ۱نمبر ۵،۶ مورخہ ۲۸؍نومبرو ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۵) ۱۸؍ نومبر۱۹۰۲ء ’’ فرمایا کہ نماز (فجر) سے کوئی ۲۰ یا ۲۵ منٹ پیشتر مَیں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میّتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔پھر اِس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کشمیر میں کسرِ صلیب کے لئے یہ سامان ہوا ہے کہ کچھ پُرانی انجیلیں وہاں سے نِکلی ہیں۔مَیں نے تجویز کی کہ کچھ آدمی وہاں جاویں تو وہ انجیلیں لاویں تو ایک کتاب اُن پر لکھی جاوے۔یہ سن کر مولوی مبارک علی صاحب تیار ہوئے کہ مَیں جاتا ہوں مگر اِس مقبرہ بہشتی میں میرے لئے جگہ رکھی جاوے۔مَیں نے کہا کہ خلیفہ نورالدین کو بھی ساتھ بھیج دو یہ خواب ہے جو میں نے سنایا۔۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ میں خواب کے الفاظ یوں ہیں۔’’فرمایا رات کو خواب میں دیکھا کہ خفیف سا ترشح ہورہا ہےمگر بڑے آرام و سکون سے۔‘‘