تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 1089

تذکرہ — Page 393

۱۹۰۲ء ۱۔’’ دو دفعہ ہم نےرؤیامیں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اَوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔۲۔اور ایک دفعہ الہام ہوا۔ہے کرشن رُودّر گوپال تیری مہما ہو۔تیری استتی گیتا میں موجود ہے۔۱؎ ۳۔اَنْتَ مَعِیْ وَ اِنِّیْ مَعَکَ۔؎۲ اِنِّیْ بَـایَعْتُکَ بَـایَعَنِیْ رَبِّیْ۔‘‘ ؎۳ (الحکم جلد۶ نمبر۱۵ مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۸) ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۲ء ’’ فرمایا کہ آج رات کو یہ الہام ہوا۔’’اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُـوْمُ۔وَ مَنْ یَّلُوْمُہٗ اَلُوْمُ۔اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ۔‘‘ ؎۴ (الحکم جلد۶ نمبر۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۶) ۱ (ترجمہ از ناشر) سؤروں کو مارنے والے اور گائیوں کی حفاظت کرنے والے کرشن تو قابل تعریف ہے۔تیری ثناء گیتا میں لکھی ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔۳ (ترجمہ) مَیں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔تُو بھی اِس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی۔(دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۸) ۴ (ترجمہ) مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوؤں گا اس کی مدد کروں گا اورجو اُس کو ملامت کرے گا اُس کو ملامت کروں گا۔روزہ افطار کروں گا اور روزہ رکھوں گا یعنی کبھی طاعون بند ہوجائے گی اور کبھی زور کرے گی۔(الحکم مورخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۶،۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اُس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتے۔پس یہ صرف ایک استعارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی مَیں اپنا قہر نازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دُوں گا… اِس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ مَیں بیمار تھا ،مَیں بھوکا تھا، مَیں ننگا تھا۔الخ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷ حاشیہ)