تذکرہ — Page 394
۱۹۰۲ء ’’جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہوگئیں…اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی چنانچہ وہ عزّوجلّ فرماتا ہے۔۱۔مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ۔بَـھُمْ وَ اَنْتَ فِیْـھِمْ۔۲۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔۳۔لَوْلَا الْاِکْـرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔۴۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ دَافِعُ الْاَذٰی۔۵۔اِنِّیْ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔۶۔اِنِّـیْ حَفِیْظٌ۔۷۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ ۸۔وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔۹۔اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ۔۱۰۔غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔؎۱ ۱۱۔اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ۔وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْـمَانَـھُمْ بِظُلْمٍ۔اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ۔۱۲۔اِنَّـا نَـاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔۱۳۔اِنِّـیْ اُجَھِّزُ الْـجَیْشَ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جَاثِـمِیْنَ۔۱۴۔سَنُرِیْـھِمْ اٰیَاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ۔۱۵۔نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۱۶۔اِنِّیْ بَـایَعْتُکَ بَـایَعَنِیْ رَبِّیْ۔۱۷۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔؎۲ ۱۸۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔۱۹۔عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔۲۰۔اَلْفَوْقُ مَعَکَ وَالتَّـحْتُ مَعَ اَعْدَآئِکَ۔۲۱۔فَاصْبِرْ حَتّٰی یَـأْتِیَ اللّٰہُ بِـأَمْرِہٖ۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔‘‘ (بدر مورخہ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’مَیں قسم حضرت احدیّت جلّ شانہٗ کی کھا کر کہتا ہوں کہ میرے پر خدا نے اپنی وحی کے ذریعہ سے ظاہر فرمایا ہے کہ میرا غضب زمین پر بھڑکا ہے کیونکہ اس زمانہ میں اکثر لوگ معصیت اور دنیا پرستی میں ایسے غرق ہوگئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رہا اور وہ جو اُس کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا ہے اُس سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور یہ ٹھٹھا اور لعن طعن حد سے گزر گیا ہے۔پس خدا فرماتا ہے کہ مَیں اُن سے جنگ کروں گا۔(جنگ سے مراد انسانی جنگ نہیں ہے بلکہ فرشتوں کا جنگ اور قضا و قدر کا جنگ) اور میرے وہ حملے اُن پر ہوں گے جو اُن کے خیال و گمان میں نہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹ سے اس قدر دوستی کی کہ سچائی کو اپنے پاؤں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔پس خدا فرماتا ہے کہ مَیں نے اب ارادہ کیا ہے کہ اپنے غریب گروہ کو ان درندوں کے حملوں سے بچاؤں اور سچائی کی حمایت میں کئی نشان ظاہر کروں۔‘‘ (اشتہار ۵؍اپریل ۱۹۰۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۴۷،۳۴۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یاد رہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ مَیں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا