تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 1089

تذکرہ — Page 389

قریباً فروری ۱۹۰۲ء ’’ ایک رات کو مجھے اِس طرح الہام ہوا کہ جیسے اخبار عَنِ الغائب ہوتا ہے اور وہ یہ الفاظ تھے۔اِنِّیْ اَفِرُّ مَعَ اَھْلِیْ اِلَیْکَ ؎۱ یہ الہام سب دوستوں کو سنایا گیا چنانچہ اُسی دن خلیفہ نورالدین؎۲ صا حب کا جـمّوںسے خط آیا کہ اس شہر میں طاعون کا زور پڑ گیا ہے اور مَیں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنے سب بال بچے کو ساتھ لے کر قادیان چلا آؤں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۸۹) ۲۹؍ مارچ ۱۹۰۲ء ’’ ۱۔لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔۲۔یَـاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ۔‘‘۳؎ (الحکم جلد۶ نمبر۱۲ مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ۱۵) ترجمہ۔۱ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کردیتا۔۲ طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہیں ہوگا یعنی انجام کار خیر و عافیت ہے۔(دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۷ و ۲۲۸) ۱۹۰۲ء ’’خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔یَـأْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ یعنی اس جہنّم پر جو طاعون اور زلزلوں کا جہنّم ہے ایک دن ایسا زمانہ آئے گا کہ اِس جہنّم میں کوئی فردِ بشر بھی نہیں ہوگا۔یعنی اِس ملک میں۔اور جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا کہ ایک خلقِ کثیر کی موت کے بعد امن کا بقیہ حاشیہ۔صدقِ دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں اپنے اہل کے ساتھ تیری طرف دوڑ کر آرہا ہوں۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اِس سے مراد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نہیں ہیں بلکہ خلیفہ نورالدینؓ صاحب ساکن جموں ہیں جو پہلے تاجر کتب تھے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ڈائری حضرت نواب محمد علی خانؓ صاحب میں اس الہام کی تاریخ ۲۹؍مارچ لکھی ہے۔دیکھیے اصحابِ احمد جلد۲ صفحہ ۵۷۲ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء مؤلّفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے۔قادیان۔