تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 1089

تذکرہ — Page 388

۱۹۰۱ء ’’ایک دفعہ مجھے الہام ہوا۔’’ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی۔رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَـمْ مِّنَ السَّمَآءِ‘‘ اے میرے ربّ! مجھے دکھا کہ تُو مُردہ کیوں کر زندہ کرتا ہے اور آسمان سے اپنی بخشش اور رحمت نازل فرما۔اِس الہام میں یہ خبر دی گئی کہ کبھی ایسا موقع آنے والا ہے کہ ہمیں یہ دُعا کرنی پڑے گی اور وہ قبول ہوگی چنانچہ ایسا ہوا کہ ایک دفعہ ہمارا لڑکا مبارک احمد ایسا سخت بیمار ہوا کہ سب نے کہا وہ مر گیا ہے ہم اُٹھے اور دُعا کرتے ہوئے لڑکے پر ہاتھ پھیرتے تھے تو لڑکے کو سانس آنا شروع ہوگیا تھا۔علاوہ ازیں یہ الہام اس طرح سے بھی پُورا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اب تک ہمارے ہاتھ سے ہزارہا رُوحانی مُردہ زندہ کئے ہیں اور کررہا ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۱۳، ۶۱۴) ۹؍ جنوری ۱۹۰۲ء ’’ ابتدائے جنوری ۱۹۰۲ء کو ایک عرب صاحب آئے ہوئے تھے بعض لوگ اُن کے متعلق مختلف رائیں رکھتے تھے۔حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ۹؍جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہام ہوا۔قَدْ جَرَتْ عَادَۃُ اللّٰہِ اَنَّہٗ لَا یَنْفَعُ الْاَمْوَاتَ اِلَّا الدُّعَآءُ۔؎۱ اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ اس وقت پر مَیں نے دعا کی تو یہ الہام ہوا۔فَکَلِّمْہُ مِنْ کُلِّ بَـابٍ وَّ لَنْ یَّنْفَعَہٗ اِلَّا ھٰذَا الدَّوَآءُ (اَیْ اَلدُّعَآءُ) ؎۲ اور پھر ایک اَور الہام اسی عرب کے متعلق ہوا کہ فَیَتَّبِعُ الْقُرْاٰنَ۔اِنَّ الْقُرْاٰنَ کِتَابُ اللّٰہِ کِتَابُ الصَّادِقِ۔‘‘؎۳ (الحکم جلد۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۳) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ کی عادت اس طرح پر جاری ہے کہ مُردوں کو دعا کے سوا اَور کوئی چیز نفع نہیں دیتی۔۲ (ترجمہ از مرتّب) پس اس سے ہر رنگ میں گفتگو کر مگر اس دوا (یعنی دعا) کے سوا کوئی چیز اس پر اثر نہیں کرے گی۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اس کے نتیجہ میں وہ قرآن کی اتباع اختیار کرلے گا۔قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے وہ سچے کی کتاب ہے۔نوٹ۔چنانچہ ۹؍جنوری ۱۹۰۲ء کی صبح کو جب آپ سیر کو نکلے تو حضرت اقدسؑ نے عربی زبان میں ایک تقریر فرمائی… جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب صاحب جو پہلے بڑے جوش سے بولتے تھے بالکل صاف ہوگئے اور اُنہوں نے