تذکرہ — Page 379
۱۹۰۱ء ۱؎ ’’ بَلِیَّۃٌ مَّالِیَّۃٌ۔یعنی مالی ابتلاء۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۳ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۴ ) ۲۲؍ فروری ۱۹۰۱ء ’’ فرمایا۔رات ایک پھنسی نے جو کئی دن سے نکلی ہوئی ہے اور ساتھ ہی خارش نے تنگ کیا۔بشریّت کی وجہ سے دھیان آیا کہ کہیں یہ ذیابیطس کا اثر اور نتیجہ نہ ہو۔اتنے میں خدا ئے رحیم و قدوس نے وحی کی کہ اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ دَافِــعُ الْاَذٰی ؎۲ اور پھر وحی ہوئی۔اِنِّیْ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔‘‘ ؎۳ (از چٹھی مولانا عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد۵ نمبر۸ مورخہ ۳؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۹) ۲۳؍ فروری ۱۹۰۱ء حضرت اقدسؑ کو الہام ہوا۔’’ کَـفَیْنَاکَ الْمُسْتَـھْزِئِیْنَ۔‘‘ ؎۴ (الحکم جلد۵ نمبر ۸ مورخہ ۳؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۲) بقیہ حاشیہ۔مدرس مدرسہ نعمانیہ واقعہ شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ مَیں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں اور ایسی لاف مارنے کے بعد جب اس نے جواب کے لئے نوٹ تیار کرنے شروع کئے اور ہماری کتاب کے اندر بعض صداقتوں پر جو ہم نے لکھی تھیں لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ لکھا تو جلد ہلاک ہوگیا دیکھو مجھ پر لعنت بھیج کر ایک ہفتہ کے اندر ہی آپ لعنتی موت کے نیچے آگیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۷۲) (ب) ’’پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے جب اس کتاب اعجاز المسیح کا بہت عرصہ کے بعد جواب اُردو میں لکھا تو اِس بات کے ثابت ہوجانے سے کہ یہ اُردو عبارت بھی لفظ بلفظ مولوی محمد حسن بھیں کی کتاب کا سرقہ ہے مہر علی شاہ کی بڑی ذلّت ہوئی اور مذکورہ بالا الہام اُس کے حق میں بھی پورا ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۷۲) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام کو ۱۹۰۱ء کے تحت اس لئے رکھا گیا کہ البدر کے مندرجہ بالا پرچے میں یہ الفاظ ہیں۔’’یکم فروری کو ایک ۲دو سال کا الہام آپ نے اس کے متعلق سنایا‘‘ اور الحکم ۱۴؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ میں یہ الفاظ ہیں۔’’فرمایا ایک پُرانا الہام بَلِیَّۃٌ مَّالِیَّۃٌ ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں رحمٰن ہوں تکلیفوں کو دُور کرنے والا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) میرے حضور میں مُرسل نہیں ڈرتے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) ٹھٹھا کرنے والوں کے مقابلہ میں ہم تیرے لئے کافی ہیں۔