تذکرہ — Page 369
اُس سے ڈرتے ہیں اور نیکی کو نیک طور پر ادا کرتے ہیں اور اپنے نیک عملوں کو خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔وہی ہیں جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔اور دنیا کی زندگی میں بھی ان کو بشارتیں ہیں۔تو نبی کی کنارِ عاطفت میں پرورش پارہا ہے…۱؎ اور مَیں ہر حال میں تیرے ساتھ ہوں۔اور پھر فرمایا۔’’ وَقَالُـوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ یَـجُوْحُ الدِّیْنَ۔قُلْ جَآءَ الْـحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ۔قُلْ لَّوْکَانَ الْاَمْرُمِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدْ تُّمْ فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْـحَقِّ وَ تَھْذِیْبِ الْاَخْلَاقِ۔قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔وَمَنْ اَظْلَمُ مِـمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِ۔بًـا۔تَنْزِیْلٌ مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ۔لِتُنْذِ۔رَ قَـوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآءُھُمْ۔وَ لِتَدْعُوَ قَوْمًا اٰخَرِیْنَ۔عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّـجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مَّوَدَّۃً۔یَـخِرُّوْنَ عَلَی الْاْذْقَانِ سُـجَّدًا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔اِنِّیْٓ اَنَـا اللّٰہُ فَاعْبُدْنِیْ وَ لَاتَنْسَنِیْ وَ اجْتَـھِدْ اَنْ تَصِلَنِیْ وَاسْئَلْ رَبَّکَ وَکُنْ سَئُوْلًا۔اَللّٰہُ وَلِیٌّ حَنَّانٌ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ تَـحْکُمُوْنَ۔نَزَّلْنَا عَلٰی ھٰذَا الْعَبْدِ رَحْـمَۃً۔وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّـوْحٰی۔دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ذَرْنِیْ وَ الْمُکَذِّ بِیْنَ۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔اِنَّ یَـوْمِیْ لَفَصْلٌ عَظِیْمٌ۔وَ اِنَّکَ عَلٰی صِـرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔وَ اِنَّـا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ۔وَ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ یَـاْتِیْکَ نُصْـرَتِیْ۔اِنِّـیْ اَنَـا اللّٰہُ ذُوالسُّلْطَانِ۔ترجمہ۔اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے۔کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اُس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کی کوئی تائید نہ ملتی… خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اِس عاجز کو ہدایت اور دین ِ حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ان کو کہہ دے کہ اگر مَیں نے افترا کیا ہے تو میرے پر اس کا جُرم ہے یعنی مَیں ہلاک ہوجاؤں گا۔اور اُس شخص سے زیادہ تر ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے۔یہ کلام خدا کی طرف سے ہے جو غالب اور رحیم ہے تا تُو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا دوسری قوموں کو دعوتِ دین کرے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) اور تُو پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہتا ہے۔