تذکرہ — Page 361
اس کے بعد فرمایا کہ حسن کا دودھ پیے گا پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مہدی آپؐ کی آل میں سے ہوگا۔یہ مسئلہ اس الہام سے حل ہوگیا اور مسیح موعود کا جو مہدی بھی ہے کام بھی معلوم ہوگیا۔پس وہ جولوگ کہتے ہیں کہ وہ آتے ہی تلوار چلائے گا اور کافروں کو قتل کرے گا جھوٹے ہیں۔اصل بات یہی ہے جو اس الہام میں بتلائی گئی ہے کہ وہ ۲دو صلحوں کا وارث ہوگا۔یعنی بَیرونی طور پر بھی صلح کرے گا اور اندرونی طور پر بھی مصالحت ہی کراوے گا۔‘‘ (الحکم جلد۴ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ۳) (ب) ’’ یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندانِ سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ ’’سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ عَلٰی مَشْـرَبِ الْـحَسَنِ۔‘‘ میرا نام سلمان رکھا۔یعنی دو سِلم۔اور سِلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں۔یعنی مقدّر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ایک اندرونی کہ جو اندرونی بُغض اور شحنا کو دُور کرے گی۔دوسری بَیرونی کہ جو بَیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کرکے اور اسلام کی عظمت دکھا کر غیر مذہب والوں کو اسلام کی طرف جھکادے گی۔معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سَلمان آیا ہے اُس سے بھی مَیں مراد ہوں۔ورنہ اُس سَلمان پر ۲دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۲،۲۱۳ حاشیہ) (ج) ’’ میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں۔اور بموجب اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۳ حاشیہ) (د) ’’اور ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سبزہ زار ہے۔اس میں کسی قدر فاصلہ پر مجھ سے ہمارے سید و مولیٰ نبی عربی اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم مع امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے کھڑے ہیں۔تب امام حسین میری طرف آئے اور مجھ سے عربی میں باتیں کیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور میری طرف اشارہ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یَا اَبِیْ مَنْ ہٰذَا؟ ھُوَ یَعْلَمُ لِسَانَنَا۔تب آپ نے اس کے جواب میں فرمایا ہُوَ مِنَّا۔ھُوَ اَحَدٌ مِّنَّا۔تب میں نے سمجھ لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی تعلق اور رشتہ کی طرف اشارہ کرکے امام حسین کو سمجھا دیا کہ اس کو مجھ سے اور تجھ سے ایک روحانی مناسبت ہے۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام )