تذکرہ — Page 357
دُوسرے میں نہیں پایا جاتا۔یہی سرّ ہے جس کی وجہ سے ہر ایک نبی کی صفات اور معجزات اظلال کے رنگ میں اس کی اُمّت کے خاص لوگوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔جو اس کے جوہر سے مناسبت تامہ رکھتے ہیں تا کسی خصوصیت کے دھوکہ میں جہلاء اُمّت کے کسی نبی کو لاشریک نہ ٹھہرائیں۔یہ سخت کفر ہے جو کسی نبی کو یلاش کا نام دیا جائے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۰۳،۲۰۴ حاشیہ) ۱۹۰۰ء ’’ وَ اِذَا ھَلَکَ الدَّ جَّالُ فَلَا دَجَّالَ بَعْدَ ہٗ اِلٰی یَـوْمِ الْقِیَامَۃِ اَمْرٌ مِّنْ لَّدُ۔نْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ وَ نَبَأٌ مِّنْ عِـنْدِ رَبِّنَا الْکَرِیْمِ وَ بَشَارَۃٌ مِّنَ اللہِ الرَّءُوْفِ الرَّحِیْمِ۔‘‘ ؎۱ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۴۱) ۱۹۰۰ء ’’ خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں؎۲جو پیش کرتے ہیں۔تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حَکَم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر ردّ کرے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۵۱ حاشیہ) ۱۹۰۰ء (الف) ’’ کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے۔وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کرکے بولا کہ ’’ہے رُو دّر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔‘‘ اسی وقت مَیں نے سمجھا کہ تمام دُنیا ایک رُودّر گوپال کا انتظا رکررہی ہے کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی۔مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں۔اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے۔اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں۔یعنی سُوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا۔اور وہ مَیں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیشگوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہوگا اور انہوں نے اُس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اَور حقیقت ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۱۷،۳۱۸ حاشیہ) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور جب دجّال ہلاک ہوگا تو اس کے بعد قیامت کے دن تک کوئی دجّال نہیں ہوگا۔یہ خدائے حکیم و علیم کی طرف سے فیصلہ ہے اور ہمارے ربّ کریم کی طرف سے پیشگوئی اور رؤوف الرحیم خدا کی طرف سے بشارت ہے۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ جو محض ظنّیات کا ذخیرہ اور مجروح اور مخدوش ہیں اور نیز مخالف ان کے اور حدیثیں بھی ہیں اور قرآن بھی ان حدیثوں کو جھوٹی ٹھیراتا ہے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۱حاشیہ)