تذکرہ — Page 13
۱۸۷۲ء (تخمیناً) ’’مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک خواب اپنا عرض کیا جس میں انہوں نے بجلی دیکھی تھی۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ شاید کوئی ۳۰ برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ مَیں نے بھی ایک خواب دیکھا کہ اَب جس مقام پر مدرسہ کی عمارت ہے وہاں بڑی کثرت سے بجلی چمک رہی ہے۔بجلی چمکنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ وہاں آبادی ہوگی۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر۸ مورخہ ۱۹ دسمبر۱۹۰۲ء صفحہ ۵۸ کالم نمبر۳) ۱۸۷۲ء (تخمیناً) ’’تخمیناً دس برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح نے اور مَیں نے ایک جگہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا اور کھانے میں ہم دونوں ایسے بے تکلّف اور بامحبت تھے کہ جیسے دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں اور جیسے قدیم سے دو رفیق اور دلی دوست ہوتے ہیں اور بعد اُس کے اسی مکان میں جہاں اَب یہ عاجز اس حاشیہ کو لکھ رہا ہے مَیں اور مسیح اور ایک اور کامل اور مکمل سیّد آلِ رسولؐ دالان میں خوش دلی سے ایک عرصہ تک کھڑے رہے اور سیّد صاحب کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔اُس میں بعض افرادِ خاصۂ اُمّتِ محمدیہ کے نام لکھے ہوئے تھے اور حضرت ِ خداوند تعالیٰ کی طرف سے اُن کی کچھ تعریفیں لکھی ہوئی تھیں۔چنانچہ سیّد صاحب نے اس کاغذ کو پڑھنا شروع کیا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مسیح کو اُمّت ِ محمدیہ کے اُن مراتب سے اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ جو عنداللہ اُن کے لئے مقرر ہیں اور اُس کاغذ میں عبارت تعریفی تمام ایسی تھی کہ جو خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھی۔سو جب پڑھتے پڑھتے وہ کاغذ اخیر تک پہنچ گیا اور کچھ تھوڑا ہی باقی رہا تب اِس عاجز کا نام آیا جس میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ عبارت تعریفی عربی زبان میں لکھی ہوئی تھی۔ھُوَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ و تَفْرِیْدِیْ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔یعنی وہ مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید سو عنقریب لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔یہ اخیر فقرہ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ اسی وقت بطورِ الہام بھی القا ہوا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۸۰،۲۸۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱) ۱۸۷۲ء (تخمیناً) (الف) ’’ایک دفعہ میں نے باوا نانک صاحب کو خواب میں دیکھا کہ اُنہوں نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا ہے؎۱ اور میں نے دیکھا کہ ایک ہندو ان کے چشمہ سے پانی پی رہا ہے پس مَیں نے اس ہندو کو کہا کہ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’میری خواب میں جو باوا نانک صاحب نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اس سے یہی مراد تھی کہ ایک زمانہ میں ان کا مسلمان ہونا پبلک پر ظاہر ہوجائے گا چنانچہ اِسی امر کے لیے کتاب سَت بچن تصنیف کی گئی تھی اور یہ جو مَیں نے ہندوؤں کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیؤاس سے یہ مراد تھی کہ ایسا زمانہ