تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 1089

تذکرہ — Page 12

اور قلق اور کرب اُس وقت گزرا سو گزرا۔تب خدا نے کہ جو اِس عاجز بندہ کا ہریک حال میں حامی ہے نماز کے اوّل یا عین نمازمیں بذریعہ الہام یہ بشارت دی لَاتَـخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی؎۱ اور پھر فجر کو ظاہر ہوگیا کہ وہ خبر بَری ہونے کی سراسر جھوٹی تھی اورانجام کار وہی ظہور میں آیا کہ جو اِس عاجز کو خبر دی گئی تھی جس کو شرمپت نامی ایک آریہ اور چنددوسرے لوگوں کے پاس قبل از وقوع بیان کیا گیا تھا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۵۷،۶۵۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۴ ) (ب) ’’جب بشمبر داس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل دائر کیا گیا تو نمازِ عشاء کے وقت جب مَیں اپنی بڑی مسجد؎۲ میں تھا علی محمدنام ایک مُلّاں ساکن قادیان نے جو اَب تک زندہ اورہمارے سلسلہ کا مخالف ہے میرے پاس آکر بیان کیا کہ اپیل منظورہوگئی اور بشمبرداس بَری ہوگیا اور کہا کہ بازار میں اِس خوشی کا ایک جوش برپا ہے۔تب اس غم سے میرے پر وہ حالت گزری جس کو خدا جانتا ہے۔اُس غم سے مَیں محسوس نہیں کرسکتا تھا کہ میں زندہ ہوں یا مر گیا۔تب اسی حالت میں نماز شروع کی گئی۔جب میں سجدہ میں گیا تب مجھے یہ الہام ہوا۔لَاتَـحْزَنْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی یعنی غم نہ کر تجھی کو غلبہ ہوگا۔تب میں نے شرمپت کو اس سے اطلاع دی اور حقیقت یہ کھلی کہ اپیل صرف لیا گیا ہے یہ نہیں کہ بشمبرداس بَری کیا گیا ہے۔‘‘ (قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۳۶) ۱۸۷۱ء( تخمیناً) ’’تیس برس سے زیادہ عرصہ ہوا جب میں تپ سے سخت بیمار ہوا۔اس قدر شدید تپ مجھے چڑھی ہوئی تھی کہ گویا بہت سے انگارے سینے پر رکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔اِس اثنائے میں مجھے الہام ہوا۔وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ۔‘‘ ۳؎ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخہ۱۰؍ اگست۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱ کالم نمبر ۲) ۱ (ترجمہ از مرتّب) خوف مت کر تُو ہی غالب رہے گا۔۲ مسجد اقصٰی (شمس) ۳ (ترجمہ از مرتّب) اور جو وجود لوگوں کے لئے نفع رساں ہو وہ زمین پر زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے۔