تذکرہ — Page 332
وَاَطِیْعُوْنِیْ وَ لَا تَـمُـوْتُـوْا بِـالْعِـصْیَانِ۔وَ قَدْ قَرُبَ الـزَّمَانُ۔وَ حَـانَ اَنْ تُسْئَلَ کُلُّ نَـفْسٍ وَ تُدَانَ۔اَلْبَلَایَا کَـثِیْرَۃٌ وَ لَا یُنَجِّیْکُمْ اِلَّا الْاِیْـمَانُ۔وَ الْـخَطَایَـا کَـبِیْرَۃٌ وَلَا تُذَوِّبُـھَا اِلَّا الذَّوْبَـانُ۔اِتَّقُوْا عَذَابَ اللہِ اَیُّـھَا الْاَعْوَانُ۔وَ لِمَنْ خَـافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ۔فَلَا تَقْـعُدُوْا مَعَ الْغَافِلِیْنَ وَ الَّذِیْنَ نَـسُوا الْـمَنَایَـا۔وَ سَارِعُـوْا اِلَی اللہِ وَارْکَبُوْا عَلٰی اَعْدَی الْمَطَایَـا۔وَ اتْـرُکُوْا ذَوَاتَ الضَّلَعِ وَ الرَّذَایَـا۔تَصِلُوْا اِلٰی رَبِّ الْـبَـرَایَـا۔خُـذُوا الْاِنْقِطَاعَ الْاِنْقِطَاعَ لِیُوْھَبَ لَکُمُ الْوَصْلُ وَ الْاِقْتِرَابُ۔وَکَسِّـرُوا الْاَسْبَابَ لِـیُخْلَقَ لَکُمُ الْاَسْبَابُ۔وَ مُوْتُـوْا لِیُرَدَّ اِلَیْکُمُ الْـحَیٰوۃُ اَیُّـھَا الْاَحْـبَابُ۔اَلْیَوْمَ تَـمَّتِ الْـحُـجَّۃُ عَلَی الْـمُخَالِفِیْنَ۔وَ انْـقَـطَـعَـتْ مَعَـاذِیْـرُ الْمُعْتَذِرِیْنَ۔وَ یَـئِـسَ مِنْکُمْ زُمَرُ الْـمُضِلِّـیْـنَ وَ الْـمُـوَسْوِسِیْنَ۔اَلَّـذِیْـنَ اَکَلُوْا اَعْـمَارَھُمْ فِی ابْتِغَاءِ الدُّنْیَا وَ لَـیْسَ لَـھُمْ حَـظٌّ مِّنَ الدِّیْنِ۔بَلْ ھُمْ کَالْعَـمِیْنَ۔فَـالْیَوْمَ اَنْقَضَ اللہُ ظُـھُـوْرَھُـمْ وَ رَجَـعُـوْا یَـائِـسِیْـنَ۔اَلْـیَوْمَ حَـصْـحَـصَ الْـحَـقُّ بقیہ ترجمہ۔اور نافرمانی مت کرو اور نافرمانی پر مت مرو۔اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے۔بلائیں بہت ہیں اور تمہیں صرف ایمان نجات دے گا اور خطائیں بڑی ہیں اور ان کو گداز نہیںکرے گا مگر گداز ہو جانا۔خدا کے عذاب سے اے میرے انصار! ڈرو اور جو خدا سے ڈرے ان کے لئے دو بہشت ہیں پس غافلوں کے ساتھ مت بیٹھو ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی موتوں کو بھلا رکھا ہے۔خدا کی طرف دوڑو اور تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوجاؤ۔ایسے گھوڑوں کو چھوڑو جو لنگڑا کے چلتے ہیں تا اپنے خدا کو ملو۔خدا کی طرف منقطع ہو جانا عادت پکڑو تا خدا کا وصال اور اس کا قرب تمہیں عنایت کیا جائے اور اسباب کو توڑ دو تا تمہارے لئے اسباب پیدا کئے جائیں اور مرجاؤ تا دوبارہ زندگی تمہیں دی جائے۔آج مخالفوں پر حجت پوری ہوگئی اور عذر کرنے والوں کے سب عذر ٹوٹ گئے اور تم سے وہ سب گروہ نا امید ہوگئے جو گمراہ کرنے والے اور وسوسہ ڈالنے والے تھے انہوں نے دنیا کی طلب میں اپنی عمریں کھوئیں اور دین میں سے کوئی بہرہ حاصل نہ کیا بلکہ وہ اندھوں کی طرح ہیں۔اور آج خدا نے ان کی کمریں توڑ دیں اور وہ ناامید ہوکر پھر گئے۔آج دیکھنے والوں کے لئے حق ظاہر ہوگیا