تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 1089

تذکرہ — Page 328

وَ یَسْتَـخْرِجَ الْاِقْبَالَ الْمَوْءُوْدَ۔مَا کَانَ حَـدِیْثٌ یُّـفْتَـرٰی۔بَلْ نُـوْرٌ مِّنَ اللہِ مَعَ اٰیَـاتٍ کُـبْـرٰی۔اَیُّـھَا النَّاسُ اِنِّیْ اَنَـا الْمَسِیْحُ انِ لْـمُحَمَّدِیُّ۔وَ اِنِّیْ اَنَـا اَحْـمَدُ لْـمَھْدِیُّ۔وَ اِنَّ رَبِّیْ مَـعِیْ اِلٰی یَـوْمِ لَـحْدِیْ مِنْ یَــوْمِ مَھْدِیْ۔وَ اِنِّیْ اُعْـطِیْتُ ضِـرَامًا اَکَّالًا۔وَ مَـاءًا زُلَالًا۔وَ اَنَـا کَـوْکَبٌ یَـمَانِـیٌّ۔وَ وَابِـلٌ رُوْحَانِـیٌّ۔اِیْذَائِیْ سِنَانٌ مُذَرَّبٌ۔وَ دُعَائِیْ دَوَاءٌ مُـجَرَّبٌ۔اُرِیْ قَوْمًا جَلَالًا۔وَ قَوْمًا اٰخَرِیْنَ جَـمَالًا۔وَ بِیَدِیْ حَرْبَۃٌ اُبِیْدُ بِـھَا عَادَاتِ الـظُّلْمِ وَ الـذُّنُوْبِ۔وَ فِی الْاُخْرٰی شَـرْبَـۃٌ اُعِیْدُ بِـھَا حَـیَاۃَ الْـقُلُوْبِ۔فَأْسٌ لِلْاِفْنَآءِ۔وَ اَنْفَاسٌ لِلْاِحْیَآءِ۔اَمَّـا جَلَالِیْ فَبِـمَا قُصِدَ کَابْنِ مَرْیَمَ اِسْتِـیْصَالِیْ۔وَ اَمَّا جَـمَالِیْ فَبِـمَا فَارَتْ رَحْـمَتِیْ کَسَیِّدِیْ اَحْـمَدَ لِاَھْدِیَ قَـوْمًا غَـفَلُوْا عَـنِ الـرَّبِّ الْـمُتَعَالِیْ۔اَفَاَنْتُمْ تَـعْـجَـبُوْنَ۔وَ اِلَی الزَّمَانِ وَ ضَـرُوْرَتِہٖ لَا تَلْتَفِتُوْنَ۔أَلَا تَـرَوْنَ اِلٰی زَمَانٍ اِحْـتَاجَ اِلَی الرَّبِّ الْفَعَّالِ۔لِیُرِیَ لِقَوْمٍ صِفَۃَ جَلَالِہٖ وَ لِلْاٰخَرِیْنَ صِفَۃَ الْـجَـمَالِ۔وَ قَدْ ظَـھَرَتِ الْاٰیَـاتُ۔وَ تَبَیَّنَتِ بقیہ ترجمہ۔اقبال جو جیتے جی قبر میں ہے پھر قبر سے نکلے۔یہ وہ بات نہیں کہ جھوٹ بنالی جائے بلکہ خدا کا نور ہے جو اپنے ساتھ بڑے بڑے نشان رکھتاہے۔اے لوگو! میں وہ مسیح ہوں جو محمدی سلسلہ میں سے ہے اور میں احمد مہدی ہوں۔اور سچ مچ میرا ربّ میرے ساتھ ہے میرے بچپن سے لے کر میری لحد تک اور مجھ کو وہ آگ ملی ہے جو کھا جانے والی ہے اور وہ پانی جو میٹھا ہے اور میں یمانی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں۔میرا رنج دینا تیز نیزہ ہے اور میری دعا مجرب دوا ہے۔ایک قوم کو میں اپنا جلال دکھاتا ہوں اور دوسری قوم کو جمال دکھاتا ہوں۔اور میرے ہاتھ میں ہتھیار ہے اُس کے ساتھ مَیں ظلم اور گناہ کی عادتوں کو ہلاک کرتا ہوں۔اور دوسرے ہاتھ میں شربت ہے جس سے میں دلوں کو دوبارہ زندہ کرتا ہوں۔ایک کلہاڑی فنا کرنے کے لئے ہے اور دَم زندہ کرنے کے لئے۔میرا جلال اس وجہ سے ہے کہ لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی طرح میری بیخ کنی کا قصد کیا ہے اور جمال اس وجہ سے کہ میری رحمت میرے سردار احمد کی طرح جوش میں ہے تا میں اس قوم کو راہ دکھلاؤں جو اپنے بزرگ ربّ سے غافل ہیں کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو اور زمانہ اور اس کی ضرورت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ زمانہ خدا کی طرف ایک حاجت رکھتا ہے تاکہ ایک قوم کو اپنے جلال کی صفت دکھاوے اور دوسری قوم کو اپنے جمال کی صفت سے مطلع فرماوے اور تحقیق نشان ظاہر ہوگئے اور علامتیں کھلگئیں