تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 1089

تذکرہ — Page 11

وقت رؤیا میں کُل حقیقت مجھ پر کھول دی اور ظاہر کیا کہ تقدیرِ الٰہی میں یوں مقدّر ہے کہ اس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ِ ماتحت میں پھر واپس آئے گی اور پھر اس عدالت ِ ماتحت میں نصف قید اُس کی تخفیف ہوجائے گی مگر بَری نہیں ہوگا اور جو اُس کا دوسرا رفیق ہے وہ پوری قید بُھگت کر خلاصی پائے گا اور بَری وہ بھی نہیں ہوگا۔پس میں نے اِس خواب سے بیدار ہوکر اپنے خداوند ِ کریم کا شکر کیا جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا اور اسی وقت مَیں نے یہ رؤیاایک جماعتِ کثیر کو سنا دیا اور اُس ہندو صاحب کو بھی اُسی دن خبر کردی۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۲۷۷ تا ۲۷۹ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱) (ب) ’’ بشمبر داس بقید ایک سال مقید ہوگیا تھا اور اس کے بھائی شرمپت نام نے جو سرگرم آریہ ہے مجھ سے دعا کی التجا کی تھی اور نیز یہ پوچھا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔مَیں نے دعا کی اور کشفی نظر سے مَیں نے دیکھا کہ مَیں اس دفتر میں گیا ہوں جہاں اس کی قید کی مثل تھی۔مَیں نے اس مثل کو کھولا اور برس کا لفظ کاٹ کر اُس کی جگہ چھ مہینے لکھ دیا اور پھر مجھے الہامِ الٰہی سے بتلایا گیا کہ مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور برس کی جگہ چھ مہینے رہ جائے گی لیکن بَری نہیں ہوگا۔چنانچہ میں نے یہ تمام کشفی واقعات شرمپت آریہ کو جو اَب تک زندہ موجود ہے نہایت صفائی سے بتلادیئے۔اور جب میں نے بتلایا اور بعینہٖ وہ باتیں ظہور میں آگئیں تو اُس نے میری طرف لکھا کہ آپ خدا کے نیک بندے ہو اس لئے اُس نے آپ پر غیب کی باتیں ظاہر کردیں۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۷) ۱۸۷۰ء (تخمیناً) (الف) ’’ اِس رؤیاصادقہ میں کہ ایک کشفِ صریح کی قسم تھی یہ معلوم کرایا گیا تھا کہ ایک کھتری ہندو بشمبر داس نامی جو اَ ب تک قادیان میں بقیدِ حیات موجو دہے مقدمہ فوجداری سے بَری نہیں ہوگا مگر آدھی قید تخفیف ہوجائے گی لیکن اُس کا دُوسرا ہم قید خوشحال نامی کہ وہ بھی اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے ساری قید بھگتے گا۔سو اِس جُزوِ کشف کی نسبت یہ ابتلا پیش آیا کہ جب چیف کورٹ سے حسبِ پیشگوئی ایں عاجز مثل مقدمہ مذکورہ واپس آئی تو متعلّقینِ مقدّمہ نے اُس واپسی کو بریت پر حمل کرکے گانوءں میں یہ مشہور کردیا کہ دونوں ملزم جُرم سے بَری ہوگئے ہیں۔مجھ کو یاد ہے کہ رات کے وقت میں یہ خبر مشہور ہوئی اور یہ عاجز مسجد میں عشاء کی نماز پڑھنے کو طیار تھا کہ ایک نے نمازیوں میں سے بیان کیا کہ یہ خبر بازار میں پھیل رہی ہے اور ملزمان گانوءںمیں آگئے ہیں۔سو چونکہ یہ عاجز علانیہ لوگوں میں کہہ چکا تھا کہ دونوں مجرم ہرگز جرم سے بَری نہیں ہوں گے اِس لئے جو کچھ غم