تذکرہ — Page 325
الـنُّوْرِ وَ طُھِّرْتُ بِعَیْنِ الْقُدْسِ مِنَ الْاَوْسَاخِ وَ الْاَدْنَـاسِ۔وَ سَـمَّانِیْ رَبِّیْ اَحْـمَدَ فَـاحْـمَدُوْنِیْ وَ لَا تَشْتِمُوْنِیْ وَ لَا تُـوْصِلُوْا اَمْرَکُمْ اِلَی الْاِبْلَاسِ۔وَ مَنْ حَـمِدَنِیْ وَمَا غَـادَرَ مِنْ نَوْعِ حَـمْدٍ فَـمَا مَانَ۔وَ مَنْ کَذَّبَ ھٰذَا الْبَیَانَ فَقَدْ مَـانَ۔وَ اَغْـضَبَ الـرَّحْـمٰنَ۔فَـوَیْـلٌ لِّلَّذِیْ شَکَّ وَ فَسَخَ الْعَھْدَ وَ فَکَّ وَ لَـوَّثَ بِطَائِـفٍ مِّنَ الْـجِنِّ الْـجَنَانَ۔وَ اِنِّیْ جِـئْتُ مِنَ الْـحَـضْـرَۃِ الـرَّفِیْعَۃِ الْعَالِیَۃِ۔لِیُـرِیَ بِیْ رَبِّیْ مِنْ بَعْضِ صِفَاتِہِ الْـجَلَالِیَّۃِ۔وَالْـجَمَالِیَّۃِ۔اَعْنِیْ دَفْعَ الضَّیْرِ وَ اِفَاضَۃَ الْـخَیْرِ فَاِنَّ الزَّمَانَ کَانَ مُـحْتَاجًا اِلٰی دَافِعِ شَـرٍّ طَغٰی۔وَ اِلٰی رَافِـعِ خَیْرٍ اِنْـحَطَّ وَ اخْتَفٰی۔فَـاقْتَضَتِ الْعِنَایَۃُ الْاِلٰھِیَّۃُ اَنْ یُّعْـطَی الزَّمَانُ مَـا سَأَلَ بِلِسَانِ الْـحَالِ۔وَ یُـرْحَـمَ طَبَقَاتُ النِّسَآءِ وَ الـرِّجَالِ۔فَـجَعَلَنِیْ مَظْھَرَ الْمَسِیْحِ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ لِدَفْـعِ الضَّـرِّ وَ اِبَادَۃِ مَـوَادِّ الْـغَوَایَۃِ۔وَ جَـعَلَنِیْ مَظْھَرَ النَّبِیِّ الْـمَھْدِیِّ اَحْـمَدَ اَکْـرَمَ لِاِفَـاضَۃِ الْـخَیْرِ وَ اِعَادَۃِ عِـھَـادِ الدِّرَایَۃِ وَ الْھِدَایَۃِ۔وَ تَـطْھِیْرِ النَّاسِ مِنْ بقیہ ترجمہ۔ہوں اور الٰہی پاکیزگی کے چشمہ میں پاکیزہ کیا گیا ہوں اور صاف کیا گیا ہوں تمام میلوں اور کدورتوں سے اور میرے ربّ نے میرا نام احمد رکھا ہے پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو اور اپنے امر کو ناامیدی کے درجہ تک مت پہنچاؤ اور جس نے میری تعریف کی اور کوئی قسم تعریف کی نہ چھوڑی تو اس نے سچ بولا اور جھوٹ کا ارتکاب نہ کیا۔اور جس نے اس بیان کو جھٹلایا پس اس نے جھوٹ بولا ہے اور اپنے خدا کے غصے کو بھڑکایا ہے پس افسوس اس آدمی پرجس نے شک کیا۔اور عہد کو توڑا اور دل کو شیطان کے وسوسہ سے آلودہ کیا اور میں بڑی اونچی درگاہ سے آیا ہوں تا میرا خدا میرے ذریعہ بعض اپنی جلالی اور جمالی صفتیں دکھلاوے یعنی شرکا دور کرنا اور بھلائی کا پہنچانا کیونکہ زمانہ کو اس بات کی حاجت تھی کہ اس بدی کو دور کیا جائے جو حد سے بڑھ گئی تھی اور اس نیکی کو بلند کیا جائے جو جاتی رہی تھی۔اس لئے خدا کی عنایت نے چاہا کہ زمانہ کو وہ چیز دی جاوے جسے وہ اپنی زبان حال سے مانگتا ہے اور مردوں اور عورتوں پر رحم کیا جائے پس مجھ کو مسیح عیسیٰ بن مریم کا مظہر بنایا تاکہ ضرر اور گمراہی کے مادوں کو دور فرماوے اور مجھ کو مہدی احمد اکرم کا مظہر بنایا تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچاوے اور درایت اور ہدایت کی بارش کو دوبارہ اتارے۔اور لوگوں کو غفلت اور گناہ گاری کے میل سے پاک کرے۔