تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 1089

تذکرہ — Page 320

الْکَامِلُ حُلَّۃَ الْـخِلَافَۃِ مِنَ الْـحَضْـرَۃِ۔وَ یُصَبَّغُ بِصِبْغِ صِفَاتِ الْاُلُوْھِیَّۃِ۔عَلٰی وَجْہِ الظِّلِّیَّۃِ۔تَـحْقِیْقًا لِّمَقَامِ الْـخِلَافَۃِ۔وَ بَعْدَ ذَالِکَ یَنْزِلُ اِلَی الْـخَلْقِ لِیَجْذِبَـھُمْ اِلَی الرُّوْحَانِیَّۃِ۔وَ یُـخْرِجَھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ الْاَرْضِیَّۃِ۔اِلَی الْاَنْوَارِ السَّمَاوِیَّۃِ۔وَ یُـجْعَلُ وَارِثًا لِکُلِّ مَنْ مَّضٰی مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ اَھْلِ الْعِلْمِ وَ الدِّرَایَۃِ۔وَشُـمُوْسِ الْقُرْبِ وَ الْوَلَایَۃِ۔وَ یُعْطٰی لَہٗ عِلْمُ الْاَوَّلِیْنَ۔وَ مَعَارِفُ السَّابِقِیْنَ۔مِنْ اُولِی الْاَ بْصَارِ وَ حُکَمَاءِ الْمِلَّۃِ۔تَـحْقِیْقًا لِمَقَامِ الْوِرَاثَۃِ۔ثُمَّ یَـمْکُثُ ھٰذَا الْعَـبْـدُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی مُـدَّۃٍ شَاءَ رَبُّـہٗ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔لِیُنِیْرَ الْـخَلْقَ بِنُوْرِ الْھِدَایَۃِ۔وَ اِذَا اَنَارَ النَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّہٖ اَوْ بَلَّغَ الْاَمْرَ بِقَدَرِ الْکِفَایَۃِ۔فَـحِیْنَئِذٍ یَتِمُّ اسْـمُہٗ وَ یَدْعُوْہُ رَبُّہٗ وَ یَرْفَعُ رُوْحَہٗ اِلٰی نُقْطَتِہِ النَّفْسِیَّۃِ۔وَ ھٰذَا ھُوَ مَعْـنَی الرَّفْعِ عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ وَ الْمَعْرِفَۃِ۔وَ الْمَرْفُوْعُ مَنْ یُّسْقٰی کَأْ۔سَ الْوِصَالِ۔مِنْ اَیْدِی الْمَحْبُوْبِ الَّذِیْ ھُوَ لُـجَّۃُ الْـجَمَالِ۔وَ یُدْخَلُ تَـحْتَ رِدَاءِ الرُّبُوْبِیَّۃِ۔مَعَ الْعُبُوْدِیَّۃِ الْاَ۔بَدِیَّۃِ۔وَ ھٰذَا اٰخِرُ مَقَامٍ یَبْلُغُہٗ طَالِبُ الْـحَقِّ فِی النَّشْأَۃِ بقیہ ترجمہ۔جاتا ہے۔اور رنگ دیا جاتا ہے الوہیت کی صفتوں کے ساتھ۔اور یہ رنگ ظلّی طور پر ہوتا ہے تا مقامِ خلافت متحقق ہو جائے اور پھر اس کے بعد خلقت کی طرف اترتا ہے تا اُن کو روحانیت کی طرف کھینچے۔اور زمین کی تاریکیوں سے باہر لاکر آسمانی نوروں کی طرف لے جائے اور یہ انسان اُن سب کا وارث کیا جاتا ہے جو نبیوں اور صدّیقوں اور اہل علم اور درایت میں سے اور قرب اور ولایت کے سورجوں میں سے اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور دیا جاتا ہے اس کو علم اوّلین کا اور معارف گذشتہ اہل بصیرت اور حکماء ملّت کے تا اس کے لئے مقام وراثت کا متحقق ہو جائے۔پھر یہ بندہ زمین پر ایک مدت تک جو اُس کے ربّ کے ارادہ میں ہے توقف کرتا ہے تاکہ مخلوق کو نُور ہدایت کے ساتھ منور کرے اور جب خلقت کو اپنے ربّ کے نور کے ساتھ روشن کر چکا یا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کر دیا پس اُس وقت اس کا نام پورا ہو جاتا ہے اور اُس کا ربّ اس کو بلاتا ہے اور اُس کی روح اُس کے نقطہ نفسی کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور یہی رفع کے معنے ہیں اُن کے نزدیک جو اہل علم اور معرفت ہیں اور مرفوع وہ ہے جس کو اُس محبوب کے ہاتھ سے جامِ وصال پلایا جاتا ہے جو حسن و جمال کا دریا ہے۔اور ربوبیت کی چادر کے نیچے داخل کیا جاتا ہے باوجود اس بات کے کہ عبودیت ابدی طور پر رہتی ہے اور یہ وہ آخری مقام ہے جس تک ایک حق کا طالب