تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 1089

تذکرہ — Page 314

(ب) ’’۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء کو عیداضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو۔تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا۔کَلَامٌ اُفْصِحَتْ؎۱ مِنْ لَّدُ نْ رَبٍّ کَرِیْمٍ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے… تب مَیں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور مَیں نہیں خیال کرسکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جُزوتک تھی‘ ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اوّل کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے بیان کرسکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ؎۲ الہامیہ رکھا ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اُفْصِحَتْ میں ضمیر کلام کی طرف جاتی ہے جو باعتبار معنی جمع قرار دیتے ہوئے ضمیر مؤنث لائی گئی۔چنانچہ کلام بمعنی مجموعہ کلمات استعمال ہو کر اس کی صفت جمع لانا بھی ثابت ہے جیسا کہ مُزَاحـم عُقَیْلِی کا قول ہے لَظَلَّ رَھِیْنًا خَـاشِعَ الطَّرْفِ حَــطَّہٗ تَـحَلُّبُ جَدْ وٰی وَالْکَلَامُ الطَّرَائِفِ (لسان العرب حرف المیم زیر لفظ کلم) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اسی خطبہ الہامیہ کے متعلق ۲دو خوابیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلمِ مبارک سے لکھی ہوئی ملی ہیں۔۱۹؍اپریل ۱۹۰۰ء کی تاریخ دے کر حضور ؑ نے میاں عبداللہ صاحب سنوری کی مندرجہ ذیل خواب لکھی ہے کہ میاں عبداللہ سنوری کہتے ہیں کہ ’’منشی غلام قادر مرحوم سنور والے یہاں آئے ہیں ان سے انہوں نے پوچھا کہ اِس جلسہ کی بابت اُس طرف کی خبر دو۔کیا کہتے ہیں۔تو اُس نے جواب دیا کہ اُوپر بڑی دُھوم مچ رہی ہے۔یہ خواب بعینہٖ سیّد امیر علی شاہ صاحب کے خواب سے مشابہ ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا تھا کہ جس وقت عربی خطبہ بروز عید پڑھا جاتا تھا اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جلسہ میں موجود ہیں اور اس خطبہ کو سن رہے ہیں۔یہ خواب عین خطبہ پڑھنے کے وقت ہی بطور کشف اسی جگہ بیٹھے ہوئے ان کو معلوم ہوگیا تھا۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر اوراق ملحقہ کتاب تعطیر الانام )