تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 1089

تذکرہ — Page 8

اس پر مجھے سخت قلق ہوا اور میں نے ان کی شفاء کے لئےاللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی… سو جب مَیں دعا میں مشغول ہوا تو میں نے کچھ دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ برادرمذکورپورے تندرست کی طرح بغیر سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں چنانچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو شفاء بخشی اور وہ اس واقعہ کے بعد پندرہ ؎۱برس تک زندہ رہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۹۵) ۱۸۶۸ء(تخمیناً) ’’ایک شخص سہج رام نام امرتسر کی کمشنری میں سر رشتہ دار تھا اور پہلے وہ ضلع سیالکوٹ میں صاحب ڈپٹی کمشنر کا سر رشتہ دار تھا اور وہ مجھ سے ہمیشہ مذہبی بحث رکھا کرتا تھا اور دین ِ اسلام سے فطرتاً ایک کینہ رکھتا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک بڑے بھائی تھے۔انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں پاس ہوگئے تھے اوروہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے اور نوکری کے امیدوار تھے۔ایک دن مَیں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب مَیں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ اُلٹانا چاہا تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سہج رام سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میرے پر رحم کرادو۔مَیں نے اُس کو کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہوگیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی۔بعد اس کے میں نیچے اترا اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی نوکری کے بارہ میں باتیں کررہے تھے۔میں نے کہا کہ اگر پنڈت سہج رام فوت ہوجائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے۔ان سب نے میری بات سن کر قہقہہ مارکر ہنسی کی کہ کیا چنگے بھلے کو مار تے ہو۔دوسرے دن یا تیسرے دن خبر آگئی کہ اُسی گھڑی سہج رام ناگہانی موت سے اِس دنیا سے گزر گیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰۹) ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء (الف) ’’ ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا… اور تقریب اِس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہوکر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو اُن کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔چنانچہ اُس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اُس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ ان ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) میرزا غلام قادر صاحب کی وفات۱۸۸۳ ء میں ہوئی تھی۔(کتاب رؤسائے پنجاب)