تذکرہ — Page 292
اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔۱۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَصُدُّ۔وْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ سَیَنَالُھُمْ غَـضَبٌ مِّنْ رَّبِّـھِمْ۔۲۔ضَـرْبُ اللّٰہِ اَشَدُّ مِنْ ضَـرْبِ النَّاسِ۔۳۔اِنَّـمَآ اَمْرُنَـآ اِذَا اَرَدْنَا شَیْئًا اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔۴۔اَتَعْــجَبُ لِاَمْرِیْ۔اِنِّیْ مَعَ الْعُشَّاقِ۔۵۔اِنِّیْ اَنَا الرَّحْـمٰنُ ذُوالْمَجْدِ وَ الْعُلٰی۔۶۔وَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ۔۷۔وَیُطْرَحُ بَیْنَ یَدَیَّ۔۸۔جَزَآءُ سَیِّئَۃٍ بِّـمِثْلِھَا۔۹۔وَ تَـرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ۔۱۰۔مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ۔۱۱۔فَاصْبِرْ حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ۔۱۲۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔؎۱ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے۔یعنی یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلّی اور مولوی ابو الحسن تبّتی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہوگا۔یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کُھلا کُھلا نشان ہوکر ہدایت کی راہ اُن پر کھولے گا… اور عربی الہامات کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے کی ذلّت کے لئے بدزبانی کررہے ہیں اور منصوبے باندھ رہے ہیں خدا اُن کو ذلیل کرے گا اور میعاد ۱۵پندرہ دسمبر ۱۸۹۸ء سے تیر۱۳ہ مہینے ہیں جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے اور ۱۴؍دسمبر۱۸۹۸ء تک جو دن ہیں وہ توبہ اور رجوع کے لئے مہلت ہے۔فقط ؎۲۔‘‘ (اشتہار مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸۔مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ۴۴۶ تا ۴۵۰ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک رہے ہیں اُن پر ان کے ربّ کی طرف سے غضب نازل ہوگا۔۲۔اللہ کی مار لوگوں کی مار سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔۳۔ہم جب کسی بات کا ارادہ کریں تو اس کے متعلق ہمارا حکم صرف یہ ہوتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے۔۴۔کیا تم میرے حکم پر تعجب کرتے ہو۔مَیں عاشقوں کے ساتھ ہوتا ہوں۔۵۔مَیں ہی ہوں رحمت کرنے والا مجد اور بزرگی کا مالک۔۶۔اور ظالم اپنے دونوں ہاتھ کاٹے گا۔۷۔اور میرے سامنے پھینکا جائے گا۔۸۔بدی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔۹۔اور ان لوگوں پر ذلّت طاری ہوگی۔۱۰۔اللہ (کے عذاب) سے کوئی انہیں بچا نہیں سکے گا۔۱۱۔پس تم صبر کرو اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم نافذ کرے۔۱۲۔اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکو کار ہوتے ہیں۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اشتہار بطور مباہلہ ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸ء … میں فریق ظالم اور کاذب کی نسبت یہ عربی الہام تھا کہ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍ بِّـمِثْلِھَا وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ۔یعنی جس قسم کی فریق مظلوم کو بدی پہنچائی گئی ہے اُسی