تذکرہ — Page 293
۲۱؍دسمبر ۱۸۹۸ء ’’ آج صبح کے وقت مجھ کو یہ الہام ہوا۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوباتِ احمد جلد ۲ صفحہ ۳۹۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳۱؍دسمبر ۱۸۹۸ء ’’ فرمایاکہ رات یعنی ۳۱؍دسمبر ۱۸۹۸ء کی شب کو الہام ہوا۔اَلسُّھَیْلُ الْبَدْ رِیُّ؎۱ پھر فرمایا کہ سہیل وہ ستارہ ہے جس کو وَلَدُ الزِّنَاکُش بھی کہتے ہیں کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو تَکَوُّنِی کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ابو الفضل نے اسی ستارہ کی نسبت لکھا ہے۔ع وَلَدُ الزّنا کش آمد چوستارۂ یمانی‘‘ (الحکم جلد ۳ نمبر ۱ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ۶) ۱۸۹۸ء ’’ خوا جہ جمال الدین صاحب بی۔اے جو ہماری جماعت میں داخل ہیں جب امتحان منصفی میں فیل ہوئے اور ان کو بہت ناکامی اور ناامیدی لاحق ہوئی اور سخت غم ہوا تو اُن کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ سَــــیُـــــغْــــــــــفَــــــــــــــــــــرُ یعنی اللہ تعالیٰ اُن کے اس غم کا تدارک کرے گا چنانچہ اس کے مطابق وہ جلد ریاستِ کشمیر میں ایک ایسے بقیہ حاشیہ۔قسم کی فریق ظالم کو جزا پہنچے گی۔سو آج یہ پیشگوئی کامل طور پر پوری ہوگئی کیونکہ مولوی محمد حسین نے بد زبانی سے میری ذلّت کی تھی اور میرا نام کافر اور دجّال اور کذّاب اور ملحد رکھا تھا اور یہی فتویٰ کفر وغیرہ کا میری نسبت پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں سے لکھوایا اور اسی بنا پر محمد حسین مذکور کی تعلیم سے اور خود اس کے لکھوانے سے محمد بخش جعفر زٹلی لاہور وغیرہ نے گندے بہتان میرے پر اور میرے گھر کے لوگوں پر لگائے۔سو اب یہی فتویٰ پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں بلکہ خود محمد حسین کے اُستاد نذیر حسین نے اس کی نسبت دے دیا یعنی یہ کہ وہ کذّاب اور دجّال اور مفتری اور کافر اور بدعتی اور اہل سنّت سے خارج بلکہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (اشتہار مورخہ ۳؍جنوری ۱۸۹۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۴۸۹ مطبوعہ ۲۰۱۸ء تفصیل کے لئے دیکھیے اشتہار ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ۴۷۲ تا ۴۷۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) سہیل ستارہ جو عرب علاقوں میں موسم گرما کے بعد ہونے والی بارشوں کے بعد طلوع ہوتا ہے۔