تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 1089

تذکرہ — Page 281

(ب) ’’حضرت اقدس امام الزمان سلّمہ الرحمان کو اللہ کریم نے وعدہ دیا ہے کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘ (الحکم جلد ۲ نمبر ۲۴،۲۵ مورخہ ۲۰،۲۷؍اگست ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۴ ) ۲۱؍جنوری ۱۸۹۸ء ’’مَیں نے تہجد میں اس؎۱ کے متعلق دعا کی تو الہام ہوا۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِـاَنْفُسِھِمْ۔اب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام؎۲ جو ہوا تھا کہ کون کہہ سکتا ہے، اے بجلی! آسمان سے مت گِر شاید اسی سے متعلق ہو۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱) ۱۸۹۸ء (الف) ’’ ۱۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ ۲۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔۳۔اِنِّیْ مَعَ الرَّحْـمٰنِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔۴۔اِنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْن۔‘‘؎۳ (خط مولوی عبدالکریم صاحبؓ محررہ یکم فروری ۱۸۹۸ء۔اخبار بدرؔ جلد ۱۱نمبر ۴،۵ مورخہ ۱۶؍نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) (ب) ’’مجھے اس؎۴ سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیّت دور نہ ہو تب تک ظاہری وباء بھی دُور نہیں ہوگی۔‘‘ ( ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۶۱) ۱ یعنی طاعون کے متعلق (شمس) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس الہام کے نزول کی تاریخ ۱۴؍جنوری ہے۔دیکھیے اصحاب ِ احمد جلد ۲ صفحہ ۵۲۵ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس چیز کو نہ بدلیں جو اُن کے نفسوں میں ہے۔۲۔وہ اس بستی کو کچھ تکلیف کے بعد پناہ میں لے لے گا۔۳۔مَیں رحمان کے ساتھ تیرے پاس اچانک آنے کو ہوں۔۴۔اللہ تعالیٰ کافروں کے منصوبوں کو توڑنے والا ہے۔۴ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی طاعون کے سیاہ پودوں والی رؤیا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔