تذکرہ — Page 269
بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوعِ انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے۔توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ؎۱۔مگر بقیہ حاشیہ۔ضبط کی گئی مگر مَیں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کرکے شائع نہیں کیا تھا کہ شاید غلط ہو۔آج اخبار نیّر آصفی مدراس مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصّل طورپر معلوم ہوگیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت کامل صفائی سے پوری ہوگئی۔ہماری وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اُس کو کی تھی کہ توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴؍مئی ۱۸۹۷ء میں شائع کردیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداشِ کردار کو پہنچ گیا اوراَب وہ ضرور اُس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا… اَب ہم اخبار مذکور میں سے وہ چِٹھی… ذیل میں نقل کردیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔’’قسطنطنیہ کی چٹّھی ‘‘ ’’ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گذشتہ دوسالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عساکرحرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کرکے قونصل ہائے دولت علیہ ترکیہ مقیم ہندکودیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہرزرچندہ تمام وکمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا اور اس امر کے باور کرنے کہ یہ وجہ ہوئی ہے کہ حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کو جو ایک ہزارچھ سوروپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر اورمولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور نے مختلف مقامات سے وصول کرکے بھیجا تھا وہ سب غبن کرگیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو اس نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اُگلوانے کی کوشش کی اوراس کی اراضی مملوکہ کو نیلام کراکر وصولی رقم کا انتظام کیا اوربابِ عالی میں غبن کی خبر بھجواکر نوکری سے موقوف کرایا… حافظ عبدالرحمٰن الہندی الامرتسری۔سکّہ جدیدہ۔وکالہ صالح آفندی قاہرہ (ملک مصر)‘‘ (مجموعہ اشتہارت جلد ۲ صفحہ۵۷۶ تا ۵۷۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس تقریر میں دو۲ پیشگوئیاں تھیں (۱) ایک یہ کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں ا ور دیانت اور امانت کی نیک صفات سے تم محروم ہو(۲) دوم یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیرا انجام بد ہوگا۔پھر اسی اشتہار میں۲؎ یہ لکھا تھا کہ بہتر تھا کہ یہ میرے پاس نہ آتا۔میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اُس کی سخت بد قسمتی ہے یہی و جہ تھی کہ میری نصیحت اس کو بُری لگی اور اُس نے جاکر میری بدگوئی کی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۶۵، ۵۶۶۔نیز دیکھئے تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۰۹) ۲ بطور پیشگوئی سفیر مذکور کی نسبت۔(ناشر)