تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 1089

تذکرہ — Page 247

کہی تو ان کو ایک لذّت آئی جیسا کہ کسی کو ایک جدید اور عجیب نکتہ سُننے سے لذّت آتی ہے اور یہ لذّت اُن کی اُن کی ایک منہ کی حالت سے مجھ کو معلوم ہوئی اور انہوں نے ایک روپیہ نذر کیا۔مجھے خیال آیا کہ مَیں نے تو کسی وقت ان کو دو روپے دیئے تھے۔انہیں میں سے انہوں نے مجھے ایک روپیہ دیا۔پھر اسی جگہ کھڑے ہونے کی حالت میں ایک گلی میں جو ہمارے مکان سے قریب شمالی طرف ہے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ گورداسپور کب جائیں گے۔مَیں نے جواب دیا۔نمی دانم۔قدمی برزمین استوار نمی شود تا خدا نخواہد؎۱۔پھر مَیں اسی گلی میں اُن کو وہیں چھوڑ کر نکل آیا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔اور اُسی وقت ۲ بجے رات کے یہ چند سطریں لکھی گئیں۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰۵) ۲۲؍مارچ ۱۸۹۶ء ’’الہام سعادت انجام۔آج ۲۲؍ مارچ ۱۸۹۶ء کو مجھ کو الہام ہوا۔یَـآ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ جَآءَکُمْ نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ۔‘‘ ؎۲ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰۵) ۱۸۹۶ء ’’ مجھے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ مَیں اس زمانہ کے لئے تجھے گواہ کی طرح کھڑا کروں گا۔‘‘ پس کیا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے بارے میں اچھی گواہی ادا کرسکوں۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۶ء ’’ وہ خاص الہامات اس کےجو اس وقت میں مخالف مولویوں کو سناؤں گا ان میں سے بطور نمونہ چند الہامات اس جگہ لکھتا ہوں۔ان میں سے بعض الہامات بیس برس کے عرصہ سے ہیں جو مختلف ترتیبوں اور کمی بیشی کے ساتھ بار بار القا ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نہیں جانتا کوئی قدم مضبوطی سے زمین پر نہیں پڑتا جب تک کہ خدانہیں چاہتا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اے شہر والو! تمہارے پاس اللہ کی نصرت آگئی اور فتح قریب ہے۔