تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 1089

تذکرہ — Page 203

کے ساتھ اُن کو ناکام کرے گااور اُن کی تمام کوششوں کو نیست و نابود کردے گا۔فرمایا۔یہ جو دیکھا گیا ہے کہ اُن کا سر کٹا ہوا ہے اِس سے یہ مراد ہے کہ اُن کا تمام گھمنڈ ٹوٹ جائے گا اور اُن کے تکبّر اور نخوت کو پامال کیا جائے گا اور ہاتھ ایک ہتھیار ہوتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔ہاتھ کے کاٹے جانے سے مُراد یہ ہے کہ اُن کے پاس مقابلہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا اورپاؤں سے انسان شکست پانے کے وقت بھاگنے کاکام لے سکتا ہے لیکن اُن کے پاؤں بھی کٹے ہوئے ہیں جس سے یہ مراد ہے کہ اُن کے واسطے کوئی جگہ فرار کی نہ ہوگی اور یہ جو دیکھا گیا ہے کہ ان کی کھال بھی اُتری ہوئی ہے اس سے یہ مراد ہے کہ اُن کے تمام پَردے فاش ہوجائیں گے اور اُن کے عیوب ظاہر ہوجائیں گے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۲۳مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۱۸۹۳ء ’’اَلااے دشمنِ نادان و بے راہ بِتَرس از تیغِ بُرّانِ مـحمدؐ‘‘؎۱ (اشتہار مورخہ۲۰؍فروری۱۸۹۳ء مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۶۴۹) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب سے اوّل اجمالی طور پر ۲۰؍فروری۱۸۸۶ء کے اشتہار (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۲۲،۱۲۳۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) میں اس پیشگوئی کا ذکر فرمایا۔پھر برکات الدعا (روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۲ تا ۴) کرامات الصادقین ٹائٹل پیج آخری صفحہ (روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۶۰ تا ۱۶۳ ) اور آئینہ کمالاتِ اسلام (روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۴۹) میں مفصّل طور پر اس کے متعلق الہاماتِ الٰہی بیان فرمائے جن میں صاف طور پر لکھ دیا گیا کہ لیکھرام اپنی شوخی شرارت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے کی سزا میں چھ سال کے اندر عید کے قریب بذریعہ قتل اس دنیا سے کوچ کر جائے گا۔اس کے مقابل پر اُس نے بھی اپنی کتاب میں حضرت اقدس کی نسبت لکھا کہ میرے پرمیشر نے مجھے یہ الہام کیا ہے کہ یہ شخص (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔مرتّب) تین سال کے اندر ہیضہ سے مرجائے گا۔لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح حضرت اقدس نے اس کی نسبت پیشگوئی فرمائی تھی کہ بِتَرس از تیغِ بُرّانِ محمدؐ الخ اسی کے مطابق یہ شخص چھ برس کے عرصہ کے اندر بذریعہ قتل پنجۂ اجل میں گرفتار ہوگیا اور جس طرح فرمایا گیا تھا کہ گوسالہ سامری کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا بالکل اسی طرح یہ گوسالہ سامری بھی شنبہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا اور جس طرح وہ جلایا گیا اور اس کی ہڈیاں دریا میں پھینکی گئیں۔اسی طرح یہ بھی جلایا گیا اور اس کی ہڈیاں بھی دریا ہی میں ڈالی گئیں۔تفصیل کے لئےدیکھیےاستفتاؔء اُردو۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۵۔سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲صفحہ ۱۱۰،۱۱۱۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ۱۷۲ تا ۱۹۱۔نزول المسیح، روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۲۲ تا ۵۲۴۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۲۹۴ تا ۳۰۶۔چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۳۳ وغیرہ۔