تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 1089

تذکرہ — Page 195

۱۸۹۳ء ’’وَ بَشَّـرَنِیْ فِیْ وَقْتِیْ ھٰذَ ا۔وَ قَالَ یَا عِیْسٰی سَاُرِیْکَ اٰیَاتِیَ الْکُبْرٰی۔‘‘۱؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۳۸۲) ۱۸۹۳ء ’’اِنِّیْ مَعَکَ حَیْثُ مَاکُنْتَ وَاِنِّیْ نَاصِـرُکَ وَ اِنِّیْ بُدُّ۔کَ اللَّازِمُ وَ عَضُدُکَ الْاَقْوٰی۔وَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَدْعُوَالْـخَلْقَ۔اِلَی الْفُرْقَانِ وَ دِ۔یْنِ خَیْرِالْوَرٰی۔‘‘۲؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۳۸۳) ۱۸۹۳ء ’’ نَـادَانِیْ وَ قَالَ۔اِنِّیْ جَاعِلُکَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا۔‘‘۳؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۴۲۶) ۱۸۹۳ء ’’ وَ؎۴فَھَّمَنِیْ رَبِّیْ اَسْرَارَ ھٰذِ ہِ الْاٰیَۃِ ؎۵ وَ اخْتَصَّنِیْ بِـھَا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۴۴۲،۴۴۳) ۱۸۹۳ء ’’ وَ قَدْ اَنْبَاَنِیْ رَبِّیْ اَنَّنِیْ کَسَفِیْنَۃِ نُـوْحٍ لِّلْخَلْقِ فَـمَنْ اَتَـانِیْ وَ دَخَلَ فِی الْبَیْعَۃِ فَقَدْ نَـجَا مِنَ الضَّیْعَۃِ۔‘‘ ؎۶ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵صفحہ۴۸۶) ۱۸۹۳ء ’’ وَ اِنِّیْ اَدْ۔رَکْتُ بِالْکَشْفِ اَنَّ حَظِیْرَۃَ الْقُدْ سِ تُسْقٰی بِـمَآءِ الْقُرْاٰنِ وَ ھُوَ بَـحْرٌ مَّوَّاجٌ ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور خدا تعالیٰ نے مجھے اسی وقت بشارت دی اور فرمایا ہے۔اے عیسیٰ! مَیں تجھے عنقریب بڑے بڑے نشان دکھاؤں گا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تُو جہاں بھی ہو مَیں تیرے ساتھ ہوں مَیں تیری مدد کروں گا اور مَیں ہمیشہ کے لئے تیرا چارہ اور سہارا اور تیرا نہایت قوی بازو ہوں اور مجھے حکم دیا کہ مَیں لوگوں کو قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دعوت دوں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں تجھے عیسیٰ ابن مریم بناتا ہوں اور اللہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے مجھے اس آیت کے اسرار سمجھائے ہیں اور انہیں مجھ سے مخصوص کیا ہے۔۵ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی آیت وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔اس آیت کی حضور نے آگے تفسیر فرمائی ہے۔دیکھیے آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۴۴۲ تا ۴۴۶۔۶ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے مجھے خبر دی ہے کہ مَیں لوگوں کے لئے نوح کی کشتی کی طرح ہوں۔پس جو شخص میرے پاس آکر بیعت میں داخل ہوگا وہ ضائع ہونے سے بچ جاوے گا۔