تذکرہ — Page 186
میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب مَیں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تَودُّد سے مجھے فرماتے ہیں کہ یَا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَ اَنْصَارَھُمْ وَ زِرَاعَتَـھُمْ یعنی اے علی اِن سے اور اِن کے مددگاروں اور اِن کی کھیتی سے کنارہ کر اور اِن کو چھوڑ دے اور اِن سے منہ پھیر لے اور مَیں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توہی حق پر ہے مگر اِن لوگوں سے ترکِ خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پَیروؤں کی وہ جماعت ہے جو اُن کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدّت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رُو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے۔ذَ رُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی یعنی مجھ کو چھوڑو تا مَیں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں۔اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس۲۰ منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘۱؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۱۸،۲۱۹ حاشیہ) ۱ اسی کشف کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربی میں یوں تحریر فرمایا ہے۔’’وَ رَأَیْتُ فِیْ مَنَامٍ اٰخَرَ کَأَنِّیْ صِـرْتُ عَلِیًّا اِبْنَ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ النَّاسُ یَتَنَازَعُوْنَنِیْ فِیْ خِلَافَتِیْ وَ کُنْتُ فِیْـھِمْ کَالَّذِیْ یُضَامُ وَ یُـمْتَـھَنُ۔وَ یَغْشَاہُ أَدْرَانُ الظَّنُوْنِ وَ ھُوَ مِنَ الْمُبَرَّئِیْنَ۔فَنَظَرَ النَّبِیُّ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اِلَیَّ وَ کُنْتُ أَخَالُ نَفْسِیْ اَنَّنِیْ مِنْہُ بِـمَنْزِلَۃِ الْاَ۔بْنَآءِ وَ ھُوَ مِنْ آبَائِیَ الْمُکْرَمِیْنَ۔فَقَالَ وَ ھُوَ مُتَحَنِّنٌ ’’ یَـا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَ أَنْصَارَھُمْ وَ زِرَاعَتَـھُمْ‘‘ فَعَلِمْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّہٗ یُوْصِیْنِیْ بِصَـرْفِ الْوَجْہِ مِنَ الْعُلَمَآءِ وَ تَرْکِ تَذَکُّرِھِمْ وَ الْإِعْرَاضِ عَنْـہُمْ وَ قَطْعِ الطَّمَعِ وَ الْـحَنِیْنِ مِنْ إِصْلَاحِ ھٰٓـؤُلٓاءِ الْمُفْسِدِیْنَ۔فَاِنَّـھُمْ لَا یَقْبَلُوْنَ الْاِصْلَاحَ فَصَـرْفُ الْوَقْتِ فِیْ نُصْحِھِمْ فِیْ حُکْمِ إِضَاعَۃِ الْوَقْتِ وَ طَـمَعُ قَبُوْلِ الْـحَقِّ مِنْھُمْ کَطَمَعِ الْعَطَآءِ مِنَ الضَّنِیْنِ۔وَ رَأَیْتُ اَنَّہٗ یُـحِبُّنِیْ وَ یُصَدِّقُنِیْ وَ یَرْحَـمُ عَلَیَّ وَ یُشِیْرُ اِلِیَّ أَنَّ عُکَّازَتَہٗ مَعِیْ وَ ھُوَ مِنَ النَّاصِـرِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۶۳، ۵۶۴)