تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 1089

تذکرہ — Page 185

نے بہت دُعا کی ہے۔پھرمَیں نے دو کتّے خواب میں دیکھے۔ایک سخت سیاہ اورایک سفید اورایک شخص ہے کہ وہ کُتّوں کے پنجے کاٹتا ہے۔پھر یہ الہام ہوا۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔‘‘؎۱ (رجسٹرمتفرق یادداشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۳۵ ) ۱۲؍نومبر ۱۸۹۲ء ’’ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَـا مَعَکَ وَلَا یَعْلَمُھَا اِلَّا الْمُسْتَرْشِدُ۔وْنَ۔‘‘ ؎۲ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۶) ۱۳؍نومبر ۱۸۹۲ء ’’ قَدْ جَآءَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَ الْفَتْحُ اَ قْـرَبُ۔‘‘؎۳ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۶) یکم دسمبر ۱۸۹۲ء ’’۱۔رَدَدْنَـآ اِلَیْکَ الْکَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ۔۴؎ ۲۔وَ قَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۳۔قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔۴۔۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۶ ) (ترجمہ) ۲ اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں۔۳ ان کو کہہ کہ وہ خداعجیب خداہے۔۴آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۶۷، ۲۶۸) ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء ’’۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء کو ایک اور رؤیادیکھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ مَیں حضرت علی کرّم اللہ وجھہٗ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے سو اس وقت مَیں سمجھتا ہوں کہ مَیں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ؎۵خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہورہا ہے۔یعنی وہ گروہ ۱ (ترجمہ از مرتّب)تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے نکالی گئی ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تُو میرے ساتھ ہے اور مَیں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) فتح کا وقت آگیا ہے اورفتح قریب تر ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) ۱ہم دوبارہ تیری طرف لوٹائیں گے۔۵ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔’’اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو خلافت ہوگی اس کا انکارایک جماعت کرے گی اورفتنہ ڈالے گی۔‘‘ (برکاتِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۷۶)