تذکرہ — Page 118
عَلَـیَّ اُمُوْرًا لِتِلْکَ الْفِئَۃِ وَاَنَا بَیْنَ النَّوْمِ وَالْیَقْظَۃِ۔وَکَانَ ھٰذَا الْکَشْفُ تَفْصِیْلَ ذَالِکَ الْاِلْھَامِ فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ۔وَ بَیَانُہٗ اَنِّیْ کُنْتُ اُرِیْدُ اَنْ اَرْقُدَ۔فَاِذَا تَـمَثَّلَتْ لِیْ اُمُّ زَوْجَۃِ اَحْـمَدَ۔وَرَاَیْتُھَا فِیْ شَانٍ اَحْزَنَنِیْ وَ اَرْجَدَ۔وَھُوَ اَنِّیْ وَجَدْتُّـھَا فِیْ فَزَعٍ شَدِیْدٍ عِنْدَالتَّلَاقِیْ۔وَعَبَرَاتُـھَا یَتَحَدَّرْنَ مِنَ الْمَاٰقِیْ۔فَقُلْتُ اَیَّتُـھَا الْمَرْءَۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِکِ۔اَیْ عَلٰی بِنْتِکِ وَبِنْتِ بِنْتِکِ۔ثُمَّ تَنَزَّلْتُ مِنْ ھٰذَا الْمَقَامِ۔وَفُھِّمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّہٗ تَفْصِیْلُ الْاِلْھَامِ السَّابِقِ مِنَ اللّٰہِ الْعَلَّامِ۔وَاُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ فِیْ مَعْنَی الْعَقِبِ مِنَ الدَّیَّانِ۔اَنَّ الْمُرَادَ ھٰھُنَا بِنْتُـھَا وَ بِنْتُ بِنْتِـھَا لَا اَحَدٌ مِّنَ الصِّبْیَانِ۔وَنُفِثَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْبَلَآءَ بَلَآءَانِ۔بَلَآءٌ عَلٰی بِنْتِـھَا وَ بَلَآءٌ عَلٰی بِنْتِ الْبِنْتِ مِنَ الرَّحْـمٰنِ وَ اِنَّـھُمَا مُتَشَابِـھَانِ مِنَ اللّٰہِ اَحْکَمِ الْـحَاکِمِیْنَ۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ ۲۱۳،۲۱۴) (ب) ’’جنوری ۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور ایک اور الہام عربی مرزا احمد بیگ؎۱ کی نسبت ہوا تھا۔جس کو ایک مجمع میں جس میں بابو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ و مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی موجود تھے، سنایا گیا تھا۔جس کی عبارت یہ ہے۔بقیہ ترجمہ۔کے متعلق چند امور ظاہر فرمائے جبکہ میں نیند اور بیداری کے بَین بَین تھا۔اور یہ کشف دوبارہ اس الہام کی تفصیل تھا جس کا واقعہ یوں ہے کہ جب میں سونے لگا تو احمد بیگ کی خوشدامن میرے سامنے متمثّل ہوئی۔میں نے اُسے جس حال میں دیکھا دیکھتے ہی میں غمگین ہوگیا اور میرا بدن لرز گیا۔بوقت ِ ملاقات میں نے اسے سخت گھبراہٹ میں پایا اور دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے تب مَیں نے اُسے کہا اے عورت! توبہ کر۔توبہ کر۔کیونکہ تیری نسل پر مصیبت آنے والی ہے۔یعنی تیری بیٹی اور نواسی پر۔پھر مجھ پر سے وہ کشفی حالت جاتی رہی اور مجھے اپنے ربّ کی طرف سے تفہیم ہوئی کہ یہ خدائے علّام کی طرف سے پہلے الہام کی تفصیل ہے۔اور عقب کے معنی کے متعلق میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ یہاں مراد اس کی بیٹی اور نواسی ہے نہ کوئی اور بچہ اور میرے دل میں یہ پھونکا گیا کہ بَلا سے مُراد دو۲ مصیبتیں ہیں ایک وہ مصیبت جو اس کی بیٹی پر آنے والی ہے اور دوسری وہ جو اُس کی نواسی پر آئے گی۔اور یہ دونوں خدائے احکم الحاکمین کی طرف سے باہم مشابہ ہیں۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چچازاد بہن بیاہی گئی تھیں جن کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئیں۔