تذکرہ — Page 108
مئی ۱۸۸۴ء ’’ ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب؎۱ صاحب کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدّل ہوگئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گذار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ خواب بہ طور کشف تھی۔چنانچہ اسی صبح کو نواب صاحب کو اس خواب سے اطلاع دی گئی۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۶۰۳،۶۰۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مئی ۱۸۸۴ء ’’ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب الٰہی بخش نام اکؤنٹنٹ نے کہ جو اس کتاب؎۲ کے معاون ہیں۔کسی اپنی مشکل میں دعا کے لئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپیہ بھیجے اور جس روز یہ خواب آئی اس روز سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کے لئے الحا ح ہوچکا تھا مگر یہ عاجز نواب؎۳ صاحب کے لئے مشغول تھا اس لئے ان کے لئے دُعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا اور جس روز نواب صاحب کے لئے بشارت دی گئی تھی تو اس دن خیال آیا کہ آج منشی الٰہی بخش کے لئے توجہ سے دعا کریں سو بعد نماز عصر جب وقت ِ صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں بھی نواب صاحب کو شامل کرلیا جائے سو اس وقت نواب صاحب اور منشی الٰہی بخش دونوں کے لئے دعا کی گئی۔بعد دُعا اسی جگہ الہام ہوا۔نُنَجِّیْـھِمَا مِنَ الْغَمِّ یعنی ہم اِن دونوں کو غم سے نجات دیں گے… پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آگیا کہ سرائے کاکام جاری ہوگیا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۶۰۳،۶۰۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) نومبر۱۸۸۴ء ’’ایک ابتلا مجھ کو اس شادی؎۴کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا…میری حالت ِ مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا… کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے… غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جنابِ الٰہی میں دُعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعے سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے چنانچہ وہ دوا میں نے طیّار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دُنیا میں مل سکتی ۱ مراد نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر (مرزا بشیر احمد) ۲ براہین احمدیہ (مرزا بشیر احمد) ۳ مراد نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر (مرزا بشیر احمد) ۴ جو۱۷؍ نومبر۱۸۸۴ء کو دہلی میں ہوئی۔(مرزا بشیر احمد)