تذکرہ — Page 107
(ب) ’’ حضرت اقدس نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا۔یَـا یَـحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ وَ الْـخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْآنِ۔اور فرمایا کہ (اس میں ہم کو حضرت یحییٰ کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحییٰ کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہورہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔)‘‘ ( ڈائری حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ مطبوعہ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۸) ۱۵؍فروری ۱۸۸۴ء ’’آج حضرت خداوند کریم کی طرف سے الہام ہوا۔یَا عَبْدَ الرَّافِعِ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔اِنِّیْ مُعِزُّکَ۔لَا مَانِعَ لِمَا اُعْطِیْ۔‘‘؎۱ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمدجلد ۱صفحہ۵۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۸؍ مارچ ۱۸۸۴ء ’’اس خط کی تحریر کے بعد یہ شعر کسی بزرگ۲؎ کا الہام ہوا۔ھرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما ؎۳ (از مکتوب بنام منشی احمد جانؒ۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۲۶ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۹؍ مئی ۱۸۸۴ء ’’حضرت خداوندکریم کی قبولیت کی ایک یہ نشانی ہے کہ بعض اوقات آپ کی توجہات کی مجھ کو وہ خبر دیتا رہا ہے اور پرسوں کے دن بھی ایک عجیب بات ہوئی کہ ابھی آں مخدوم کا منی آرڈر نہیں پہنچا تھا اور نہ خط پہنچا تھا کہ ایک منی آرڈر آپ کی طرف سے برنگ زرد مجھ کو حالتِ کشفی میں دکھلایا گیا اور پھر آں مخدوم کے خط سے اس عاجز کو بذریعہ الہام اطلاع دی گئی اور آپ کے مافی الضمیر سےاورخط کے مضمون سے مطلع کیا گیا۔اس میں بہ پیرایہ الہامی عبارت بطور حکایت آں مخدوم کی طرف سے یہ بھی فقرہ تھا۔میرے خیال میں یہ آپ کی توجہ کا اثر ہے۔چنانچہ یہ خط کا مضمون اور مافی الضمیر کا منشاء تین ہندوؤں اور بہت سے مسلمانوں کو بھی بتلایا گیا۔ازاں بعد آں مخدوم کا منی آرڈر اور خط بھی آگیا۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب علی محمد خان صاحبؓ آف جھجر۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۴۲،۴۳ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے رفعت بخشنے والے خدا کے بندے۔میں تجھے اپنی جناب میں رفعت بخشوں گا۔میں تجھے عزت اور غلبہ دُوں گا۔جو کچھ میں دُوں اُسے کوئی بند نہیں کرسکتا۔۲ حافظ شیرازیؒ۔(ناشر) ۳ (ترجمہ از مرتّب) وہ شخص ہرگز نہیں مرتا۔جس کا دل عشق سے زندہ ہوگیا۔صفحہ ٔ عالم پر ہمارا دوام ثابت ہے۔