تذکرہ — Page 97
(براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۴ تا ۶۲۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۹؍اکتوبر۱۸۸۳ء ’’آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اِس عاجز نے شناخت نہیں کیا وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد؎۱ کے دروازہ کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے ہیں۔ایسا سمجھا گیا ہے کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ اُن کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ِریحانی میں جو پیچان اورمسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔تب اس عاجز نے اُن آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک آیت یاد رہی اور وہ یہ ہے۔لَا رَآ دَّ لِفَضْلِہٖ۔اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔جس عمارت کو وہ بنانا چاہے اس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہے اس کو کون ذلیل کرے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۲؍اکتوبر۱۸۸۳ء ’’آج اِس موقع کے اثنا میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصحیح کاپی کو دیکھ رہا تھا بعالمِ کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور اُن پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقّارہ بجے پھر ایک نے مسکرا کر اُن ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری ۱ یعنی مسجد مبارک (شمس)