تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 1089

تذکرہ — Page 94

میں اپنی طرف سے تجھے مدد دوں گا۔۱۷میں خود تیرا غم دُور کروں گا۔۱۸اور تیرا خدا قادر ہے۔۱۹تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔۲۰تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا کیا۔۲۱جو کچھ تو چاہے کر کہ میں نے تجھے بخشا۔۲۲تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیاتِ شرعیہ تجھے حلال ہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئےہیں اور اعمالِ صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندہ کی مرضی بنائی گئی اور سب ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئی۔وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤتِیْہِ مَنْ یَشَآءُ۔۲۳۔وَقَالُـوْٓا اِنْ ھُوَ (۔اِلَّا؎۱) اِفْکٌ  فْتَریٰ۔۲۴۔وَمَا سَـمِعْنَا بِـھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ۔۲۵۔وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ و فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔۲۶۔اِجْتَبَیْنَاھُمْ وَاصْطَفَیْنَاھُمْ ۲۷کَذَالِکَ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمَؤْمِنیْنَ۔۲۸۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنَّ اَصْـحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ اٰیَاتِنَا عَـجَبًا۔۲۹۔قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔۳۰۔کُلَّ یَــوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔۳۱۔۔فَفَھَّمْنَاھَا سُلَیْـمَانَ۔۳۲۔وَجَـحَدُ۔وْا بِـھَا وَاسْتَیْقَنَتْـھَا اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا۔۳۳۔سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِـھِمُ الرُّعْبَ۔۳۴۔قُلْ جَآءَکُمْ نُـوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ فَلَا تَکْفُرُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔۳۵۔سَلَامٌ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ ۳۶ صَافَیْنَاہُ وَنَـجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ۔۳۷ تَفَرَّدْ نَا بِذَالِکَ۔۳۸۔فَاتَّـخِذُ۔وْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی۔۲۳اورکہیں گے کہ یہ جھوٹ بنالیا ہے۔۲۴ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا۔۲۵حالانکہ بنی آدم یکساں پیدا نہیں کئے گئے۔بعض کو بعض پر خدا نے بزرگی دی ہے ۲۶اور اُن کو دوسروں میں سے چُن لیا ہے۔۲۷یہی سچ ہے تا مومنوں کے لئے نشان ہو۔۲۸کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں۔نہیں ۲۹بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے اور اُس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔۳۰ہر یک دن میں وہ ایک شان میں ہے۔۳۱پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ الہام براہین احمدیہ میں اس طرح پر لکھا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اربعین نمبر ۲ طبع اوّل صفحہ ۷ میں بحوالہ براہین احمدیہ بیان فرمایا ہے اور وہاں پر اس میں ھُوَ کے بعد۔اِلَّا بھی ہے یعنی ان الفاظ میں الہام ہے وَقَالُوْٓا اِنْ ھُوَ۔اِلَّا اِفْکٌ  فْتَریٰ۔وَ مَا سَـمِعْنَا بِـھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ براہین میں سہو کاتب سے۔اِلَّا کا لفظ رہ گیا ہے۔