تذکرہ — Page 95
۲اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا حالانکہ اُن کے دل یقین کرگئے۔۳۳سو عنقریب ہم اُن کے دلوں میں رُعب ڈال دیں گے۔۳۴کہہ خدا کی طرف سے نور اُترا ہے سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔۳۵ابراہیم پر سلام۔۳۶ہم نے اُس کو خالص کیا اور غم سے نجات دی۔۳۷ہم نے ہی یہ کام کیا۔۳۸سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو یعنی رسول کریم کا طریقۂ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مُشتبہ ہوگیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مُشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں۔یہ طریقہ خداوندِ کریم کے اِس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اُس پر چلیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۶۶۷تا۶۷۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴ ) اگست ۱۸۸۳ء (الف) ’’ اُن ؎۱کے سفر آخرت کی خبر بھی کہ جو اُن کو تیس۳۰ اکتوبر۱۸۸۳ء میں پیش آیا۔تخمیناً تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اِس عاجز کو دے دی تھی چنانچہ یہ خبربعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۴۰ حاشیہ نمبر۱۱) (ب) ’’پنڈت دیانند کی بابت اس کی موت سے دو مہینے پہلے لالہ شرمپت کو اطلاع دی گئی کہ اب وہ بہت ہی نزدیک مرے گا بلکہ کشفی حالت میں مَیں نے اُس کو مُردہ پایا۔‘‘ (شحنۂ حق۔روحانی خزائن جلد۲ صفحہ ۳۸۲) (ج) ’’اس ملک پنجاب میں جب دیانند بانی مبانی آریہ مذہب نے اپنے خیالات پھیلائے اورسِفلہ طبع ہندوؤں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیراورایسے ہی دوسرے انبیاء ؑ کی توہین پر چالاک کردیا اور خود بھی قلم پکڑتے ہی اپنی شیطانی کتابوں میں جابجا خدا کے تمام پاک اور برگزیدہ نبیوں کی تحقیر اور توہین شروع کی اور خاص اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں بہت کچھ جھوٹ کی نجاست کو استعمال کیا اور بزرگ پیغمبروں کو گندی گالیاں دیں تب مجھے اس کی نسبت الہام ہوا کہ خدا تعالیٰ ایسے موذی کو جلد تر دنیا سے اُٹھالے گا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۰۷) ۲۸؍ اگست ۱۸۸۳ء ’’ شاید پرسوں کے دن یعنی بروز سہ شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی تو اُسی وقت خداوند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔فِیْہِ بَـرَکَاتٌ لِّلنَّاسِ۔یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۵۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء ۱ پنڈت دیانند صاحب (مرزا بشیر احمد)