تذکرہ — Page 83
عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جو لوگ اُس کی درگاہِ عالی میں بلائے جاتے ہیں اُن کی تربیت کبھی جمالی صفت سے اور کبھی جلالی صفت سے ہوتی ہے اور جہاں حضرت احدیّت کے تلطّفاتِ عظیمہ مبذول ہوتے ہیں وہاں ہمیشہ صفت ِجمالی کی تجلّیات کا غلبہ رہتا ہے مگر کبھی کبھی بندگانِ خاص کی صفاتِ جلالیہ سے بھی تادیب اور تربیت منظور ہوتی ہے جیسے انبیاءِ کرام کے ساتھ بھی خدا ئے تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ہمیشہ صفاتِ جمالیہ حضرت احدیّت کے اُن کی تربیت میں مصروف رہے ہیں لیکن کبھی کبھی اُن کی استقامت اور اخلاقِ فاضلہ کے ظاہر کرنے کے لئے جلالی صفتیں بھی ظاہر ہوتی رہی ہیں اور اُن کو شریر لوگوں کے ہاتھ سے انواع اقسام کے دکھ ملتے رہے ہیں تا اُن کے وہ اخلاق فاضلہ جو بغیر تکالیف شاقہ کے پیش آنے کے ظاہر نہیں ہوسکتے وہ سب ظاہر ہوجائیں اور دنیا کے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ کچّے نہیں ہیں بلکہ سچے وفادار ہیں۔۷۷۔وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۷۸۔اِنْ ھٰذَا اِلَّا سِـحْرٌ یُّــؤْثَـرُ۔۷۹۔لَنْ نُّـوْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَـرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً۔۸۰۔لَا یُصَدِّ۔قُ السَّفِیْہُ اِلَّا سَیْفَۃَ الْھَلَاکِ۔۸۱۔عَدُ۔وٌّ لِّیْ وَ عَدُ۔وٌّ لَّکَ۔۸۲۔قُلْ اَتٰی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْـجِلُوْہُ۔۸۳۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُ اللّٰہِ اَلَسْتُ بِـرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی۔۷۷اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔۷۸یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔۷۹ہم ہرگز نہیں مانیں گے جب تک خدا کو بچشمِ خود دیکھ نہ لیں۔۸۰سفیہ بجز ضربہ ٔ ہلاکت کے کسی چیز کو باور نہیں کرتا۔۸۱میرا اور تیرا دشمن ہے۔۸۲کہہ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو۔۸۳جب خدا کی مدد آئے گی تو کہا جائے گا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں کہیں گے کہ کیوں نہیں۔۸۴۔اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔۸۵۔وَلَا تَـھِنُوْا وَلَا تَـحْزَنُوْا۔۸۶۔وَکَانَ اللّٰہُ بِکُمْ رَءُوْفًا رَّحِیْـمًا۔۸۷ اَ۔لَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَـحْزَنُوْنَ۔۸۸ تَـمُوْتُ وَ اَنَـا رَاضٍ مِّنْکَ۔۸۹ فَادْخُلُوا الْـجَنَّۃَ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ۔۹۰۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا اٰمِنِیْنَ۔۹۱ سَلَامٌ عَلَیْکَ ۹۲۔جُعِلْتَ مُبَارَکًا ۹۳۔سَـمِــعَ اللّٰہُ اِنَّہٗ سَـمِیْعُ الدُّعَآءِ۔۹۴۔اَنْتَ مُبَارَکٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔۹۵۔اَمْرَاضُ النَّاسِ وَبَـرَکَاتُہٗ۔۹۶۔اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔۹۷۔اُذْکُرْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکَ ۹۸۔وَ اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ۔۹۹۔يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔۱۰۰۔مَنَّ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ ۱۰۱۔وَ اَحْسَنَ اِلٰی اَحْبَابِکُمْ ۱۰۲ وَعَلَّمَکُمْ مَّالَمْ