تذکرہ — Page 84
تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔۱۰۳۔وَاِنْ تَعُدُّ وْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُـحْصُوْھَا۔۸۴ میں تجھ کو پوری؎۱نعمت دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے مُتّبعین میں داخل ہوجائیںاُن کو اُن کے مخالفوں پر کہ جو انکاری ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔یعنی وہ لوگ حجّت اور دلیل کے رُو سے اپنے مخالفوں پر غالب رہیں گے اور صدق اور راستی کے انوار سا طعہ اُنہیں کے شامل حال رہیں گے ۸۵ اور سُست مت ہو اور غم مت کرو۔۸۶ خدا تم پر بہت ہی مہربان ہے۔۸۷خبردار ہو بہ تحقیق جو لو گ مقربان الٰہی ہوتے ہیں اُن پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم کرتے ہیں۔۸۸تُو اس حالت میں مرے گا کہ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔۸۹پس بہشت میں داخل ہوانشاء اللہ امن کے ساتھ۔۹۰تم پر سلام۔تم شرک سے پاک ہوگئے سو تم امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔۹۱تجھ پر سلام۔۹۲تو مبارک کیا گیا۔۹۳خدا نے دعا سن لی۔وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔۹۴تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے… ۹۵لوگوں کی بیماریاں اور خدا کی برکتیں یعنی مبارک کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے لوگوں کی روحانی بیماریاں دور ہوں گی اور جن کے نفس سعید ہیں وہ تیری باتوں کے ذریعہ سے رشد اور ہدایت پا جائیں گے اور ایسا ہی جسمانی بیماریاں اور تکالیف جن میں تقدیر مبرم نہیں۔؎۲ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفّی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گو میں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا۔مگر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کرسکتا۔خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو و نسیان لازمہ بشریّت ہے۔‘‘ (ایّام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۷۱، ۲۷۲، نیز دیکھیے براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۹۳ حاشیہ) ۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت اقدسؑ الہام اَمْرَاضُ النَّاسِ وَبَـرَکَاتُہٗ کی تشریح یوں فرماتے ہیں۔’’یعنی لوگوں میں مرض پھیلے گی اور اس کے ساتھ ہی خدا کی برکتیں نازل ہوں گی اور وہ اس طرح پر کہ وہ بعض کو نشان کے طور پر اس بلا سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے یہ کہ یہ بیماریاں جو آئیں گی یہ دینی برکات کا موجب ہوجائیں گی اور بہتیرے لوگ اُن خوفناک دنوں میں دینی برکات سے حصّہ لیں گے اور سلسلہ حقّہ میں داخل ہوجائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور طاعون کا خوفناک نظارہ دیکھ کر بڑے بڑے متعصّب اس سلسلہ میں داخل ہوگئے ہیں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۹۸)