تذکرہ — Page 65
ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے۔یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی ہے اور جیسے علی کی تلوار نے بڑے بڑے خطرناک معرکوں میں نمایاں کاردکھلائے تھے ایسا ہی یہ بھی دکھلائے گی۔اور یہ بھی ایک پیش گوئی ہے کہ جو کتاب؎۱ کی تاثیراتِ عظیمہ اور برکاتِ عمیمہ پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۱ ، ۵۹۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) ۱۸۸۳ء ’’ پھر بعد اس کے فرمایا۔۱۔وَ لَوْ کَانَ الْاِیْـمَانُ مُعَلَّقًا بِـالثُّـرَیَّـا لَنَا لَہٗ ۱۔اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا۔یعنی زمین سے بالکل اُٹھ جاتا۔تب بھی شخص مقدم الذکر اُس کو پالیتا۔۲۔یَکَادُ زَیْتُہٗ یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَـمْسَسْہُ نَـارٌ۔۲۔عنقریب ہے کہ اُس کا تیل خود بخود روشن ہوجائے اگرچہ آگ اُس کو چھو بھی نہ جائے۔۳۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَـحْنُ جَـمِیْعٌ مُّنْتَصِـرٌ سَیُـھْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّ۔بُـرَ۔۴۔وَ اِنْ یَّـرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِـحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔۵۔وَاسْتَیْقَنَتْـھَا اَنْفُسُھُمْ۔۶۔وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔۷۔فَبِـمَا رَحْـمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ عَلَیْھِمْ۔۸۔وَ لَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔۹۔وَ لَوْ اَنَّ قُراٰنًـا سُیِّرَتْ بِہِ الْـجِبَالُ۔۳۔کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں۔عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ بقیہ حاشیہ۔اِس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اِس وقت سے دس۱۰ برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے۔کِتَابُ الْوَ لِیِّ ذُو الْفَقَارِ عَلِیٍّ۔یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔یہ اِس عاجز کی طرف اشارہ ہے اِسی بناء پر بارہا اِس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اِسی کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ (نشانِ آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۹) (ب) ’’یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلے میں۔اس لئے ہم کو چاہیے کہ ہرگز بیکار نہ بیٹھیں۔مگر یاد رکھو کہ ہماری حَرب ان کے ہم رنگ ہو جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اُسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہیےاور وہ ہتھیار ہے قلم۔یہی و جہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔‘‘ ( الحکم مورخہ ۱۷؍ جون۱۹۰۱ء صفحہ ۲) ۱ براہین احمدیہ (مرزا بشیر احمد)