تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 1089

تذکرہ — Page 66

جائے گی اور پیٹھ پھیر لیں گے۔۴۔اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو؎۱ کہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے۔۵۔حالانکہ اُن کے دل اُن نشانوں پر یقین کر گئے ہیں ۶۔اور دلوں میں اُنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔۷۔اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا۔۸۔اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہوجاتے۔۹۔اگرچہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القا ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آویں جو اس قسم کی باتیں کریں اور بدرجۂ یقین کامل پہنچ کر پھر منکر رہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۵۹۲ ، ۵۹۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’ پھر بعد اس کے فرمایا۔۱۔اِنَّا اَنْـزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ؎۲ ۲۔وَ بِالْـحَقِّ اَنْـزَلْنَاہُ وَ بِا لْـحَقِّ نَزَلَ۔۳۔صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔۴۔وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔۳؎ یعنی ۱۔ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اِس الہام پُر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے ۲۔اور ضرورتِ حقّہ کے ساتھ اتارا ہے۔اور بضرورتِ حقّہ اُترا ہے۔۳۔خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔۴۔اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔یہ آخری فقرات اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث… میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلامِ مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے چنانچہ وہ اشارہ ۱ (بقیہ ترجمہ از مرتّب) اس سے اِعراض کرتے۔اور ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اس الہام پر نظر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا… اَب جو ایک نئے الہام سے یہ بات بپایۂ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدائے تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اُس پہلے الہام کے معنی بھی اس سے کھل گئے…اس کی تفسیر یہ ہے کہ اِنَّا اَنْـزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنْ دِمَشْقَ بِطَرَفٍ شَـرْقِـیٍّ عِنْدَالْمَنَارَۃِ الْبَیْضَآءِ۔کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۹ حاشیہ) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ازالہ اوہام میں یہ فقرہ یوں ہے وَکَانَ وَعْدُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۸ حاشیہ)