تذکرہ — Page 60
کے دلوں پر یاس مستولی ہوجائے گی اور حق آشکارا ہوجائے گا۔۹۔وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَکَ حَتّٰی یَـمِیْزَالْـخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ۹۔اور خدا ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ خبیث اور طیب میں صریح فرق نہ کرلے۔۱۰۔وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ ۱۰۔اور خدا اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔۱۱۔اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ تَـمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ۱۲۔ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔۱۱۔جب مدد اور فتح الٰہی آئے گی اور تیرے رب کی بات پوری ہوجائے گی ۱۲۔تو کفّار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔۱۳۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔۱۴۔اِنِّیْ جَا عِلٌ فِی الْاَرْضِ۔۱۳۔یعنی میں نے اپنی طرف سے خلیفہ کرنے کا ارادہ کیا۔سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔۱۴۔میں زمین پر کرنے والا ہوں۔یہ اختصاری کلمہ ہے یعنی اس کو قائم کرنے والا ہوں۔اس جگہ خلیفہ کے لفظ سے ایسا شخص مراد ہے کہ جو ارشاد اور ہدایت کے لئے بَیْنَ اللہِ وَ بَیْنَ الْـخَلْقِ واسطہ ہو۔خلافت ِ ظاہری کہ جو سلطنت اور حکمرانی پر اطلاق پاتی ہے مراد نہیں ہے…بلکہ یہ محض روحانی مراتب اور روحانی نیابت کا ذکر ہے اور آدم کے لفظ سے بھی وہ آدم جو ابوالبشر ہے مراد نہیں بلکہ ایسا شخص مراد ہے جس سے سلسلہ ارشاد اور ہدایت کا قائم ہو کر روحانی پیدائش کی بنیاد ڈالی جائے۔گویا وہ روحانی زندگی کے رُو سے حق کے طالبوں کا باپ ہے اور یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں روحانی سلسلہ کے قائم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ایسے وقت میں جبکہ اُس سلسلہ کا نام و نشان نہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۸۱ تا ۵۸۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ ) ۱۸۸۳ء ’’ پھر بعد اِس کے اُس روحانی آدم کا روحانی مرتبہ بیان فرمایا اور کہا۔دَنٰی فَتَدَ لّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی جب یہ آیت شریفہ جو قرآن شریف کی آیت ہے الہام ہوئی تو اس کے معنے کی تشخیص اور تعیین میں تأمّل تھا اور اسی تأمل میں کچھ خفیف سی خواب آگئی اور اُس خواب میں اس کے معنے حل کئے گئے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ